.

اسحاق ڈار پی ٹی آئی سے مذاکرات کریں گے

عمران خان کی دھمکی کے بعد حکومت کا مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

وزیراعظم میاں نواز شریف کی حکومت نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی )کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس مقصد کے لیے وزیرخزانہ اسحاق ڈار کو نامزد کیا ہے۔

وفاقی وزیراطلاعات ونشریات اور قومی ورثہ سینیٹر پرویز رشید نےسوموار کی شب ایک نجی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت ملک میں جاری سیاسی بحران کے حل کے لیے پہلے بھی پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کو تیار تھی مگر پی ٹی آئی کے چئیرمین عمران خان کے رویے کی وجہ سے اس نے مذاکرات منقطع کیے تھے۔

عمران خان نے اتوار کی شب اسلام آباد میں اپنے ہزاروں حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے پہلے بڑے شہروں اور پھر پورے ملک کو بند کرنے کی دھمکی دی تھِی۔اس کے ردعمل میں وزیراطلاعات نے گذشتہ روز کہا تھا کہ اگر عمران خان گڑ بڑ کی سیاست جاری رکھتے ہیں تو پھر ان کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں کیے جائیں گے۔

لیکن ایک روز بعد انھوں نے حکومت کی جانب سے مذاکرات کا عندیہ دے دیا ہے اور کہا ہے کہ وہ عوام کی بھلائی کے لیے سب کے ساتھ مل جل کر کام کرنا چاہتی ہے۔انھوں نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ ماضی میں پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات میں چھے میں سے ساڑھے پانچ نکات پر اتفاق رائے ہوچکا تھا لیکن عمران خان نے اپنی مذاکراتی ٹیم پر ہی ویٹو کردیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ''حکومت نے دہشت گردی پر کافی حد تک مؤثر طریقے سے قابو پا لیا ہے ،توانائی اور ملکی معیشت کی صورت حال بہتر ہوئی ہے اور تمام چیزیں بہتری کی جانب گامزن ہیں اور اب ہم درست راہ پر ہیں''۔ان کا کہنا تھا کہ تمام سیاسی جماعتوں کومحاذ آرائی کے بجائے تعاون کی سیاست کرنی چاہیے اور عمران خان کو قومی اسمبلی میں حزب اختلاف کا فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔

انھوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ پی ٹی آئی کے چئیرمین نے پہلے تو 14 اگست کو یوم آزادی کے موقع پر احتجاجی مظاہرے کرکے قوم کے جذبات سے کھیلنے کی کوشش کی تھی اور اب 16 دسمبر کو یوم سقوط مشرقی پاکستان کے موقع پر اپنے پلان سی پر عمل درآمد کا اعلان کردیا ہے۔

وزیراطلاعات نے اپنی گفتگو میں پاکستانی میڈیا کے ایک حصے کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جو ان کے بہ قول پی ٹی آئی کے چئیرمین کو غیر منصفانہ انداز میں کوریج دے رہا ہے اور اسلام آباد کے ڈی چوک میں دھرنے کے بہت تھوڑے شرکاء کو ایک بڑا مجمع بنا کر پیش کررہا ہے اور خالی کرسیوں کو نہیں دکھا رہا ہے۔

قبل ازیں وزیراعظم میاں نواز شریف نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف خورشید شاہ کے ساتھ ملاقات میں عمران خان کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ خورشید شاہ نے وزیراطلاعات پرویز رشید کے گذشتہ کل کے بیان کو مایوس کن قرار دیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ حکومت اب پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گی۔انھوں نے کہا کہ حکومت کو پی ٹی آئی کے ساتھ مذاکرات کرنے چاہئیں ورنہ دوسری صورت میں اس کی اپنی پوزیشن ہی کمزور ہوگی۔