عمران خان قاتلوں کے نام افشاء کرنا بھول گئے

کارکنوں کی گرفتاریوں پر آئی جی اسلام آباد کو جیل میں ڈالنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سربراہ عمران خان ایک مرتبہ پھر اپنا اعلان کردہ وعدہ ایفاء کرنے میں ناکام رہے ہیں اور انھوں نے دو مقتول ارکان اسمبلی کے قاتلوں کے نام افشاء نہیں کیے ہیں۔ البتہ اپنے کارکنوں کو یہ دلاسا ضرور دیا ہے کہ ان کی گرفتاریاں اور حکومت کی تشدد آمیز کارروائیاں نئے پاکستان کو بننے نہیں روک سکتی ہیں۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے مرکز میں دھرنا دینے والے احتجاجی لیڈر عمران خان روز نئے اعلانات کرتے ہیں۔وہ اپنی دھواں دار تقاریر میں ارباب اقتدار وسیاست کی بدعنوانیوں اور گذشتہ سال منعقدہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں کے انکشافات کرتے رہتے ہیں۔اسی تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے بدھ کی رات انھوں نے اپنی تقریر میں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کی رکن قومی اسمبلی مقتولہ طاہرہ آصف اور بلوچستان اسمبلی کے رکن ہینڈری مسیح کے قاتلوں کو بے نقاب کرنے کا اعلان کیا تھا۔انھوں نے یہ اشارہ دیا تھا کہ ان دونوں کو دوارکان اسمبلی اور ایک پولیس افسر نے قتل کروایا تھا۔

انھوں نے ہفتے کی رات پارلیمینٹ ہاؤس کے سامنے ڈی چوک میں اپنی جماعت کے جز وقتی (پارٹ ٹائم) دھرنے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے ان مبینہ قاتلوں کے نام تو نہیں بتائے ہیں بلکہ گذشتہ ایک ماہ کے دوران اپنی تقاریر میں کی گئی باتوں ہی کو دُہرایا ہے۔البتہ اس میں ایک نیا یہ اعلان کیا ہے کہ انھیں اپنے اقدامات کے لیے کسی اشارے کی ضرورت نہیں ہے۔انھوں نے زندگی میں جو کچھ حاصل کیا،وہ ان کی محنت کا نتیجہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان کی جماعت جبرواستبداد کے آگے نہیں جھکے گی۔عمران خان نے کہا کہ ''جب میں اقتدار میں آؤں گا تو لوگوں کو یہ حق حاصل ہوگا کہ وہ میری آمدن اور دولت کے بارے میں سوال کریں۔انھیں یہ پوچھنے کا حق حاصل ہوگا کہ میں نے ٹیکس ادا کیا ہے یا نہیں''۔

پی ٹی آئی کے سربراہ نے کہا کہ ''ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو ان کے تین بچوں سمیت امریکا کے حوالے کردیا گیا تھا۔ ہمیں ایک قوم بننا ہوگا، ہم مستقبل میں کسی کے ساتھ اس طرح کا سلوک نہیں ہونے دیں گے''۔

انھوں نے اسلام آباد کے انسپکٹر جنرل پولیس طاہر عالم کو للکارتے ہوئے کہا کہ وہ انھیں چھوڑیں گے نہیں اور جیل میں ڈالیں گے۔انھوں نے صوبہ پنجاب کے انسپکٹر جنرل پولیس مشتاق سکھیرا کو بھی خبردار کیا اور کہا کہ ''انھیں وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف بھی نہیں بچا سکیں گے اور میں آپ کو سلاخوں کے پیچھے ڈالیں گے''۔

انھوں نے اپنی تقریر میں الزام عاید کیا کہ اسلام آباد میں پولیس نے وزیراعلیٰ پنجاب کے حکم پر پینتالیس افراد پر فائرنگ کی ہے۔اس کے الزام میں شہباز شریف اور وزیرداخلہ چودھری نثار علی خان کے خلاف مقدمات درج کرائے جائیں گے۔

عمران خان کی اس تقریر سے قبل اسلام آباد پولیس نے پاکستان ٹیلی ویژن (پی ٹی وی) اسٹیشن کی عمارت پر حملے،اس کی نشریات بند کرنے اور پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بولنے کے الزام میں قریباً ایک سو افراد کو گرفتار کر لیا تھا۔اسلام آباد کے علاقے ایف ایٹ مرکز میں واقع کچہری میں ان گرفتار کارکنوں کو چھڑوانے کے لیے تحریک انصاف کے بعض رہ نماؤں نے اپنے حامیوں کے ساتھ پولیس کی قیدیوں کو لے جانے والی گاڑی پر حملہ کردیا۔اس دوران ان کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ ہاتھا پائی بھی ہوئی تھی۔

واضح رہے کہ عمران خان اپنے کارکنوں کی تشدد آمیز کارروائیوں کی مذمت کرنے یا انھیں روکنے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں اور ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی کَہ رہے ہیں کہ انھیں پولیس ،انتظامیہ ،فوج اور عدلیہ میں سے کسی پر بھی اعتماد نہیں ہے۔پی ٹی آئی کے کارکنوں نے دھرنے کی جگہ کے نزدیک واقع نجی ٹیلی ویژن جیو کے دفاتر پر بھی پتھراؤ کیا ہے۔وہ گذشتہ کئی دنوں سے جیو کے دفاتر پر پتھراؤ کررہے ہیں اور اس کی عمارت کے بیرونی شیشے ٹوٹ چکے ہیں۔صحافتی تنظیموں نے اس اشتعال انگیز جارحانہ حملے کی مذمت کی ہے اور حکومت سے میڈیا اداروں اور صحافیوں کو تحفظ مہیا کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں