.

جنید جمشید کے خلاف توہین مذہب کی تحقیقات کا آغاز

ایک ویڈیو پیغام میں ممتاز دینی شخصیت نے معافی مانگ لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی پولیس نے توہین مذہب کے الزامات کے تحت ملک کی مشہور شخصیت اور سابق پاپ اسٹار جنید جمشید کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ ایک متنازعہ ویڈیو منظر عام پر آنے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا ہے۔

سوشل میڈیا پر چلنے والی ایک ویڈیو میں ’تبلیغی جماعت‘ سے منسلک جنید جمشید کو ’عورتوں کے ساتھ سلوک کرنے‘ سے متعلق ایک بیان ديتے ديکھا جا سکتا ہے اور اسی بیان میں وہ پیغمبر اسلام کی اہلیہ حضرت عائشہ سے متعلق ایک روایت بیان کرتے ہیں۔ ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ اس بیان میں توہین مذہب کے مرتکب ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ رواں برس پاکستان میں میڈیا اور شو بزنس سے وابستہ شخصیات پر توہینِ مذہب کے مقدمے کا دوسرا واقعہ ہے۔ توہین مذہب پاکستان میں انتہائی حساس معاملہ سمجھا جاتا ہے۔ توہین مذہب کی روک تھام کے لیے پاکستان میں قوانین بھی موجود ہیں جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اکثر ان قوانین کا غلط استعمال کیا جاتا ہے۔

پاکستان میں مذہبی جماعت ’سُنی تحریک‘ کے ایک ترجمان فہیم الدین شیخ کا کراچی میں نیوز ایجنسی ‘اے ایف پی’ سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ہم نے ڈسٹرکٹ کورٹ کے جسٹس احمد صبا کے حکم پر رسالہ پولیس اسٹیشن میں جنید جمشید کے خلاف توہین مذہب کا کیس دائر کرا دیا ہے۔‘‘ رسالہ پولیس اسٹیشن کے ایک اہلکار محمد شفیق نے اس کی تصدیق کی ہے۔

اس سے قبل جنید جمشید کی طرف سے فیس بک پر ایک ویڈیو بھی ریلیز کی گئی تھی، جس میں انہوں نے انتہائی جذباتی انداز میں کہا کہ ان سے غلطی سر زد ہوئی ہے اور انہیں معاف کر دیا جائے۔ ان کا کہنا تھا، ’’ میں ام المومنین اماں عائشہ کی شان میں ایسی باتیں کہہ گیا جو ان کی شان کے خلاف تھیں، یہ میری غلطی ہے اور یہ میری نادانی اور جہالت کی وجہ سے ہوئی ہے۔ میں اللہ سے معافی چاہتا ہوں، میں تمام امت مسلمہ کے سامنے معافی چاہتا ہوں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’میں نے یہ غلطی قصداﹰ نہیں کی، میں ایک مرتبہ پھر آپ سے معافی مانگتا ہوں اور اس بات کی امید بھی رکھتا ہوں کہ آپ مجھے معاف کر دیں گے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ وہ ان لوگوں کے دل سے شکر گزار ہیں، جنہوں نے انہیں متنبہ کیا اور ان کی غلطی کی نشاندہی کی۔

تبلیغی جماعت میں شمولیت سے پہلے جنید جمشید کا شمار پاکستان کے مشہور ترین پاپ سنگرز میں ہوتا تھا۔ ان کو سب سے زیادہ شہرت ان کے گانے ’دل دل پاکستان‘ کی وجہ سے ملی۔ اب پچاس سالہ جنید جمشید نے داڑھی رکھی ہوئی ہے اور روایتی لباس پہنتے ہیں۔ وہ فیشن بوتیک کی ایک چین بھی چلاتے ہیں۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان میں توہین مذہب کے مقدمات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ اکثر غیر ثابت شدہ الزامات کی بعد ہجوم کی طرف سے انتقامی کارروائیاں کی جاتی ہیں۔ ابھی چار نومبر ہی کو ایک مشتعل ہجوم کی طرف سے ایک مسیحی اور اس کی حاملہ بیوی کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

حال ہی میں گلگت بلتستان کی انسدادِ دہشت گردی کی خصوصی عدالت نے نجی ٹی وی جیو کے ایک پروگرام میں برگزیدہ مذہبی شخصیات کے بارے میں توہین آمیز کلمات کہے جانے پر چینل کے مالک میر شکیل الرحمٰن، پروگرام کی میزبان شائشتہ لودھی، اداکارہ وینا ملک اور ان کے شوہر کو 26، 26 سال قید اور 13 لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی ہے۔

چند روز پہلے یورپی پارلیمنٹ نے بھی پاکستان پر زور دیا تھا کہ وہ ’توہین رسالت و مذہب‘ سے متعلق قوانین پر نظر ثانی کرے۔ یورپی رہنماؤں کے مطابق ان قوانین کی وجہ سے مسیحیوں اور دیگر اقلیتوں کو ’نشانہ بنانے کے واقعات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے‘۔