.

چارلی ہیبڈو کے خلاف احتجاجی مظاہرے

کراچی میں پُرامن مارچ تشدد میں تبدیل، فائرنگ سے فوٹوگرافر زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی دینی وسیاسی جماعتوں اور شہری تنظیموں نے فرانسیسی جریدے چارلی ہیبڈو میں توہین رسالت پر مبنی خاکوں کی دوبارہ اشاعت کے خلاف آج نماز جمعہ کے بعد مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے ہیں اور اس فرانسیسی جریدے کے اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

دینی جماعتوں کی اپیل پر جمعہ کے اجتماعات میں علماء اور خطباء نے توہین آمیز خاکوں کی دوبارہ اشاعت اور اس ناپاک جسارت کی فرانس سمیت بعض یورپی ملکوں میں عوامی پذیرائی کے رجحان کی مذمت کی ہے اور اس روش کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں جماعت اسلامی کی ذیلی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے زیراہتمام تین تلوار چوک تک احتجاجی ریلی نکالی گئی۔اس کے شرکاء فرانس کے قونصل خانے کی جانب جانا چاہتے تھے لیکن پولیس نے طاقت استعمال کرتے ہوئے انھیں منتشر کرنے کی کوشش کی اور انھیں قونصل خانے کی جانب بڑھنے سے روک دیا۔

پولیس نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے اشک آور گیس کے گولے پھینکے اور ہوائی کے علاوہ براہ راست فائرنگ بھی کی ہے۔اس دوران ایک گولی فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے ایک فوٹو گرافر کو لگی ہے جس سے وہ شدید زخمی ہوگیا۔تاہم اسپتال ذرائع نے اس کی حالت خطرے سے باہر بتائی ہے۔پولیس کے عہدے دار اس اطلاع کی تردید کی ہے کہ مظاہرین پر کوئی براہ راست گولی چلائی گئی ہے۔

طلبہ کے پتھراؤ سے ایک پولیس اہلکار کے سر میں چوٹ لگی ہے۔اسپتال میں اس کی حالت بھی تسلی بخش بتائی گئی ہے۔زخمیوں کو جناح اسپتال منتقل کیا گیا ہے اور اس اسپتال کی ترجمان ڈاکٹر سیمی جمالی کے مطابق فوٹو گرافر کو ربر بلٹ نہیں بلکہ لائیو بلٹ لگی ہے۔ترجمان نے ایک راہگیر کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع دی ہے۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے عہدے داروں نے اپنے موقف میں کہا ہے کہ ہم پرامن انداز میں مظاہرہ کررہے تھے اور ایک احتجاجی یادداشت قونصل خانے کے حکام تک پہنچانا چاہتے تھے لیکن ہمیں اس حق سے پولیس نے زبردستی روک دیا۔کراچی پولیس کی سخت کارروائی کے باوجود طلبہ شام تک فرانسیسی قونصل خانے تک پہنچنے کی کوشش کرتے رہے تھے اور اس دوران ان کی پولیس اہلکاروں کے ساتھ آنکھ مچولی جاری رہی تھی۔ پولیس حکام کے مطابق کسی طالب علم کو گرفتار نہیں کیا گیا ہے۔

ملک کے دوسرے بڑے شہر لاہور میں جماعت اسلامی نے اپنے مرکزمنصورہ کے باہر توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا ۔ مظاہرین پر امن طور پر منتشر ہو گئے۔ دوسرا بڑا احتجاجی مظاہرہ جماعتہ الدعوہ کی طرف سے اس کے مرکز القادسیہ کے باہر کیا گیا۔ اس میں بڑی تعداد میں نمازی شریک تھے۔

فرانسیسی جریدے میں توہین آمیز خاکوں کی دوباہ اشاعت کے خلاف یوم احتجاج کی کال مذہبی سیاسی جماعت جمعیت علماء اسلام کے دو دھڑوں، جماعت اسلامی اور بعض دوسری جماعتوں کی طرف سے دی گئی تھی۔اس پر تمام مکاتب فکر کی جماعتوں نے ملک کے بڑے شہروں کوئٹہ، پشاور، راول پنڈی، ملتان ، فیصل آباد، حیدر آباد سمیت بڑے شہروں میں بھی احتجاج کیا ہے اور آزادی اظہار کے نام پر فرانسیسی جریدے کی جسارت کی مذمت کی گئی ہے۔

جماعتہ الدعوہ کے ترجمان کے مطابق آیندہ اتوار کو لاہور میں حرمت رسول صلی اللہ علیہ وسلم مارچ کیا جائے گا۔ واضح رہے کہ ماضی میں ایسے ہی خاکوں کی اشاعت کے خلاف پاکستان کی دینی جماعتوں نے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تحریک حرمت رسول قائم کیا تھاجسے اب نئے سرے سے متحرک کرنے کی اطلاعات ہیں ۔اس سلسلے میں دینی جماعتوں نے باہم مشاورت بھی شروع کر دی ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی میں تمام دینی اور سیاسی جماعتوں کے ارکان نے جمعرات کے روز متفقہ طور پر مذمتی قرار داد منظور کی تھی اور ارکان پارلیمنٹ نے پارلیمینٹ ہاؤس کے باہر احتجاجی مارچ بھی کیا تھا۔فرانس نے دوسرے یورپی ممالک اور امریکا کی طرح پاکستان کو اپنے سفارت کاروں کے لیے ''نان فیملی اسٹیشن'' قرار دے رکھا ہے۔اس نے حالیہ دنوں میں اپنے شہریوں کو پاکستان میں غیر ضروری سفر کرنے سے احتیاط برتنے کی ہدایت کی ہے۔

کراچی میں طلبہ کے احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک پولیس اہلکار فائرنگ کرتے ہوئے۔
کراچی میں طلبہ کے احتجاجی مظاہرے کے دوران ایک پولیس اہلکار فائرنگ کرتے ہوئے۔