.

ملالہ پرحملے میں ملوّث 10 مجرموں کو عمرقید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے شمال مغربی علاقے سوات میں انسداد دہشت گردی کی ایک عدالت نے سنہ 2012ء میں ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے میں ملوّث دس افراد کو قصور وار قرار دے کر پچیس، پچیس سال قید کی سزا سنائی ہے۔

ان دس مجرموں کے نام بلال ،شوکت ،سلمان ،ظفر اقبال ،اسراراللہ ،ظفرعلی ،عرفان ،اظہر ،عدنان اور اکرام بتائے گئے ہیں۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) نے اکتوبر 2012ء میں ملالہ یوسف زئی پر قاتلانہ حملے کی ذمے داری قبول کی تھی۔ان کی وین پر وادی سوات کے شہر مینگورہ میں اسکول سے واپسی پر مسلح افراد نے فائرنگ کردی تھی جس سے وہ اور ان کی دو ساتھی طالبات کائنات اور شازیہ زخمی ہوگئی تھیں۔

ملالہ کو حملے کے فوری بعد پشاور منتقل کیا گیا تھا اور وہاں سے علاج کے لیے برطانیہ کے شہر برمنگھم منتقل کردیا گیا تھا جہاں وہ چند ماہ تک زیر علاج رہی تھی۔ ملالہ کو زخمی ہونے سے قبل طالبان کے خلاف آواز اٹھانے پر زبردست پذیرائی ملی تھی اور حملے کے بعد انھیں مختلف عالمی ایوارڈز اور انعامات سے نوازا گیا تھا۔اکتوبر 2014ء میں انھیں نوبل امن انعام کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور وہ یہ اعلیٰ ترین انعام پانے والی سب سے کم عمر شخصیت ہیں۔ان کے ساتھ بچوں کے حقوق کے لیے طویل جدوجہد پر بھارت کے کیلاش ستیارتھی کو نوبل امن انعام دیا گیا تھا۔

پاکستان آرمی نے ستمبر 2014ء میں ملالہ یوسف زئی پر حملے میں ملوث دس طالبان دہشت گردوں کو گرفتار کرنے کی اطلاع دی تھی اور کہا تھا کہ ان کے خلاف انسداد دہشت گردی کی عدالت میں مقدمہ چلایا جائے گا۔

ان مشتبہ افراد کی گرفتاری ایک ملزم اسراراللہ کی فراہم کردہ معلومات کی روشنی میں عمل میں آئی تھی۔اسی نے ملالہ پر فائرنگ کی تھی اور اسی کو سب سے پہلے گرفتار کیا گیا تھا۔

یہ تمام مجرم مالا کنڈ ڈویژن سے تعلق رکھتے تھے اور انھیں پاک فوج ،آئی ایس آئی ،ملٹری انٹیلی جنس اور پولیس کی انٹیلی جنس کی روشنی میں مشترکہ چھاپہ مار کارروائیوں میں گرفتار کیا گیا تھا۔اس گروپ کا سرغنہ ظفر اقبال تھا اور اس کی سوات میں فرنیچر کی دُکان تھی۔