.

عشرت العباد کی چھٹی ، سعید الزمان صدیقی نئے گورنر سندھ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی وفاقی حکومت نے صوبہ سندھ کے گورنر ڈاکٹر عشرت العباد کو ان کے عہدے سے ہٹا دیا ہے اور ان کی جگہ عدالت عظمیٰ کے سابق چیف جسٹس ،جسٹس سعید الزمان صدیقی کو صوبے کا نیا گورنر مقرر کیا ہے۔

جناب جسٹس سعید الزمان صدیقی نے اپنے تقرر کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ گورنر کا عہدہ سنبھالنے جارہے ہیں۔انھوں نے ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل ڈان نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ کراچی میں امن وامان کی بحالی ان کی اولین ترجیح ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ ''میں عوام کے مسائل کو حل کرنے کے لیے اپنی مقدور بھر کوششں کروں گا۔میں اس بات میں یقین رکھتا ہوں کہ کراچی میں امن کا قیام صوبائی حکومت اور گورنر دونوں کی مشترکہ ذمے داری ہے۔اگر شہر میں امن قائم ہوجاتا ہے تو کاروبار پھلے پھولے گا اور لوگ چین و سکون کا سانس لیں گے''۔

انھوں نے بتایا ہے کہ ''عشرت العباد کو حالیہ تنازعات کے بعد ہٹایا گیا ہے''۔ گورنر کے دفتر نے اس حوالے سے کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔ پاک سرزمین پارٹی کے رہ نما مصطفیٰ کمال نے اپنی ایک حالیہ نیوز کانفرنس میں عشرت العباد پر بدعنوانیوں میں ملوّث ہونے کے سنگین الزامات عاید کیے تھے۔

واضح رہے کہ عشرت العباد مسلسل قریباً چودہ سال تک صوبہ سندھ کے گورنر رہے ہیں۔انھیں سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے 27 دسمبر 2002ء کو گورنر مقرر کیا تھا۔انھوں نے ڈاؤ میڈیکل کالج میں طالب علمی کے زمانے میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کے ایک کارکن کی حیثیت سے اپنے سیاسی کیرئیر کا آغاز کیا تھا۔

انھوں نے 1990ء میں منعقدہ عام انتخابات میں الطاف حسین کے زیر قیادت لسانی وسیاسی جماعت مہاجر قومی موومنٹ (ایم کیو ایم ) کے حمایت یافتہ حق پرست گروپ کے ٹکٹ پر صوبائی اسمبلی کی نشست پر کامیابی حاصل کی تھی اور انھیں وزیراعلیٰ جام صادق علی کی کابینہ میں صوبائی وزیر بنایا گیا تھا۔

جون 1992ء میں جب پاکستان آرمی نے کراچی میں ایم کیو ایم کی تشدد آمیز کارروائیوں کے خلاف آپریشن شروع کیا تو وہ زیر زمین چلے گئے تھے اور ایک سال کے بعد لندن میں نمودار ہوئے تھے۔ وہاں انھوں نے سیاسی پناہ حاصل کر لی تھی۔ اس حیثیت میں وہ برطانوی حکومت کے وظیفہ خوار بھی رہے تھے۔

وہ ایم کیو ایم کے خود ساختہ جلاوطن قائد اور اب برطانوی شہری الطاف حسین کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے۔تاہم انھوں نے خود کو پس پردہ ہی رکھا۔ 2002ء میں جب الطاف حسین نے ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر ڈاکٹر عمران فاروق کو چلتا کیا تو ان کی جگہ عشرت العباد کو قائم مقام کنوینر مقرر کیا تھا۔

اسی سال وہ گورنر بن گئے تھے اوربعد کے برسوں میں ایم کیو ایم اور حکومت کے درمیان ایک رابطہ کار کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے تھے۔مصطفیٰ کمال نے ان پر یہ الزام بھی عاید کیا تھا کہ وہ ایم کیو ایم کے جرائم پیشہ افراد کو گورنر ہاؤس میں پناہ دیتے رہے تھے اور انھیں سکیورٹی فورسز کی حراست سے رہا کرانے میں بھی کردار ادا کرتے رہے تھے۔