.

پاک افغان سرحد پر ایک چیک پوسٹ پر حملے میں دو فوجی شہید ، چار زخمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں پاک افغان سرحد کے نزدیک ایک چیک پوسٹ پر مشتبہ جنگجوؤں کے حملے میں دو فوجی شہید اور چار زخمی ہوگئے ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے ایک بیان کے مطابق ’’افغانستان کے سرحدی علاقے سے دہشت گردوں نے باجوڑ ایجنسی میں پاکستانی چوکیوں پر حملے کی کوشش کی تھی۔اس کا موثر جواب دیا گیا ہے اور آٹھ سے دس دہشت گرد بھاگتے ہوئے ہلاک ہوگئے ہیں اور متعدد زخمی ہوگئے ہیں‘‘۔دہشت گردوں کے اس حملے میں پاک فوج کے کپتان جنید حفیظ اور سپاہی رحم شہید ہوئے ہیں۔

آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں مزید کہا ہے کہ افغانستان کے سرحدی علاقے میں افغان حکومت کی عمل داری نہ ہونے کی وجہ سے دہشت گرد اس طرح کے حملوں کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔

اس حملے سے چند روز قبل افغان سرحد کے ساتھ واقع خیبر ایجنسی کے علاقے وادی راجگال میں اسی طرح کے حملے میں پاک فوج کا ایک سپاہی شہید ہوگیا تھا۔ پاکستان آرمی نے اگست میں خیبر ایجنسی میں خیبر4 کے نام سے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی تھی اور سرحد کے ساتھ واقع پاکستانی علاقے کو دہشت گردوں سے پاک کردیا تھا۔

پاکستان نے اسی ماہ افغان سرحد کے ساتھ اپنے علاقے میں باڑ لگانے کا کام شروع کردیا ہے۔اس کا مقصد افغانستان سے دہشت گردوں کی پاکستان میں دراندازی کو روکنا ہے۔

پاکستان کی سیکریٹری خارجہ تہمینہ جنجوعہ نے چند روز قبل ایوان بالا سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ افغانستان میں 45 فی صد علاقہ حکومت کے کنٹرول میں نہیں ہے،اسی لیے حقانی نیٹ ورک یا دوسرے دہشت گرد گروپوں کو پاکستان میں کسی قسم کی پناہ لینے کی ضرورت نہیں ہے‘‘۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان دونوں ہی ایک دوسرے پر اپنے اپنے سرحدی علاقوں میں دہشت گرد گروپوں کو پناہ دینے کے الزامات عاید کرتے رہتے ہیں اور دونوں ملک اس الزام کی تردید بھی کرتے رہتے ہیں۔