.

حکومت اور مظاہرین میں مذاکرات کامیاب، دھرنا ختم کرنے کا اعلان

عدالت فوج کی ثالثی میں حکومت اور دھرنا قیادت کے درمیان معاہدے پر برہم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

حکومت اور تحریک لبیک یا رسول اللہ کے درمیان دھرنا ختم کرنے کے سلسلے میں چھ نکاتی معاہدہ طے پا گیا ہے، جس کے مطابق فوج نے معاہدہ کروانے میں مرکزی کردار ادا کیا ہے، تاہم تحریک کے سربراہ کا کہنا ہے کہ دھرنا تب ختم ہو گا جب عمل درآمد شروع ہو گا۔ ادھر وزیر اعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی نے وفاقی وزیر قانون زاہد حامد کا استعفیٰ قبول کر لیا ہے۔

لبیک یا رسول اللہ کے سربراہ خادم حسین رضوی نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 'جنرل صاحب ضامن بنے۔ انھوں نے ٹیم بھجوائی۔ ہمارا معاہدہ ان کے ساتھ ہوا۔ زاہد حامد کا استعفیٰ ہمارے شہدا کے خون کی قیمت نہیں ہے۔ یہ استعفیٰ صرف ختم نبوت کی وجہ سے ہے۔ ہم جنرل صاحب کو جو چاہتے کہہ سکتے تھے، لیکن لوگوں نے کہنا تھا کہ یہ حکومت ہٹانے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ 'جو الزامات لگے ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے۔ آرمی چیف نے خصوصی نمائندے بھیجے۔ ہم نے بتایا کہ انھوں نے ہمارے بیسیوں کارکنان کو شہید کیا ہے۔ ملک کے حالات خرابی کی طرف جا رہے تھے۔‘ خادم حسین رضوی نے کہا کہ ہم نے معاہدے کے ضامن لوگوں کو بتایا کہ اگر ہمارے یہ مطالبات پورے ہو جائیں گے تو دھرنا دینے والے لوگ اپنے گھروں کو تشریف لے جائیں۔

خادم حسین نے میڈیا کے نمائندوں سے سوال کیا کہ ’آپ یہ خبریں کیوں دے رہے ہیں کہ ہائی کورٹ کے حکم پر دھرنا ختم کر دیا گیا ہے؟‘انھوں نے کہا کہ دھرنا ختم کرنے کا باضابطہ اعلان تو تبھی ہو گا جب عمل درآمد شروع ہو جائے گا۔ ’12 گھنٹے تک ہماری بات ہے، ہمارے جتنے کارکن جیلوں میں ہیں، ہمارے جتنے کارکن پنڈی اسلام آباد کی جیلوں میں ہیں، جب وہ آ جائیں گے تو اس دوران ہم چیزیں سمیٹ کر چل پڑیں گے۔‘ دھرنا دینے والی جماعت اپنے ہلاک اور لاپتہ ہونے والے کارکنان کی تعداد نہیں بتا سکی اور یہی کہا کہ بیسیوں لاپتہ اور ہلاک ہوئے۔

انھوں نے فیس بک لائیو کے ذریعے کی جانے والی پریس کانفرنس کی پاکستانی میڈیا پر لائیو کوریج نہ ملنے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ 'نہیں کوئی چلانا چاہتا، آپ نے ہمارا وقت ضائع کیا ہے۔ پہلے بتاتے، ہم نے بات ہی نہیں کرنی تھی۔'

انھوں نے کہا کہ اب چلاؤ ،پھر ہم تمھیں اٹھنے دیں گے۔‘ تاہم بعد میں انھوں نے میڈیا کے نمائندوں سے کہا کہ انھیں کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ اس کے رینجرز کے کرنل بلال اپنی فورس کے ہمراہ آگے آئے اور انھوں نے صحافیوں کو اپنی حفاظت میں نکالا جس کے بعد میڈیا کی گاڑیاں قطار بنا کر علاقے سے نکالی گئیں۔

دھرنا قیادت اور حکومت میں معاہدے پرعدالت کی برہمی

ہائی کورٹ نے حکومت اور دھرنا قیادت کے درمیان فوج کی ثالثی میں ہونے والے معاہدے پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ عدالت نے معاہدے کا نہیں بلکہ صرف دھرنا ختم کرانے اور فیض آباد انٹرچینج خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی اور وزیر داخلہ احسن اقبال، چیف کمشنر اسلام آباد ذوالفقار حیدر اور دیگر اعلیٰ حکام عدالت میں پیش ہوئے۔

اس موقع پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے معاہدے اور فوج کی ثالثی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آئین پاکستان کے تحت کسی آرمی افسر کا ثالث بننا کیسا ہے، کیا آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ آئین سے باہر ہیں، فوجی افسر ثالث کیسے بن سکتے ہیں، یہ تو لگ رہا ہے کہ ان کے کہنے پر ہوا، ریاست کے ساتھ کب تک ایسے چلتا رہے گا۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ رپورٹ پیش کی جائے کہ آپریشن ناکام کیوں ہوا، ہماری انتظامیہ کو کیوں ذلیل کیا گیا، آرمی اپنے آئینی کردار میں رہے، آرمی چیف کون ہوتے ہیں ثالث بننے والے، جن فوجیوں کو سیاست کرنے کا شوق ہے وہ فوج کو چھوڑیں اور سیاست میں جائیں، قوم کے ساتھ کب تک تماشا لگا رہے گا، تحریری طور پر آگاہ کریں کس نے ہماری انتظامیہ کو رسوا کیا، کس نے پولیس کی پیٹھ میں چھرا گھونپا؟، آرمی اپنی آئینی حدود میں رہے، فوج قانون توڑنے والے جلوس کے سامنے کیسے نیوٹرل رہ سکتی ہے۔

فاضل جج نے ریمارکس دیے کہ اب عدلیہ میں جسٹس منیر کے پیروکار نہیں رہے، اعلیٰ عدلیہ کو گالیاں دینے والوں کے معافی مانگنے کی شق معاہدے میں کیوں شامل نہیں؟، وزیر آئی ٹی انوشہ رحمان کو بچانے کیلئے زاہد حامد کی بلی چڑھا رہے ہیں، ناموس رسالت کیس میں انوشہ رحمان کے ڈرٹی گیم کا اشارہ دیا تھا، کیا فیض آباد کے ساتھ جی ایچ کیو ہوتا تو کیا دھرنا دیا جاتا؟، دہشت گردی کی شقوں والے مقدمات یکدم کیسے ختم ہونگے، ان باتوں کے بعد میری زندگی کی کوئی ضمانت نہیں، معلوم ہے قادیانیوں کو کس نے ڈارلنگ بنا کر رکھا ہوا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ میں نے فیض آباد کلیئر کرانے کا حکم آئین کے مطابق دیا، ہمیں معاملے کی حساسیت کا علم ہے، آئی بی رپورٹ دے کہ دھرنے والوں کے پاس آنسو گیس گن، شیل اور ماسک کہاں سے آئے، معاہدہ پر دستخط کرنے والا میجر جنرل فیض حمید کون ہے؟، یہ تاثردیا جا رہا ہے کہ ہر مرض کی دوا فوج ہے۔

وزیر داخلہ سے جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ آپ نے اسلام آباد انتظامیہ اور پولیس کو بے رحمی کے ساتھ ذلیل کروا دیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ پولیس کو ہم نے تو نہیں ذلیل کرایا، میرے قتل پر بھی دس لاکھ روپے انعام رکھا گیا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے آپ اس تاثر کو تقویت دے رہے ہیں کہ ایک بھی ملزم پکڑنا ہو گا تو فوج کرے گی، آپ نے ثابت کر دیا کہ دھرنا کے پیچھے وہی تھے، ریاست اور آئین کے ساتھ کھیلنے کی حد ہو گئی۔ آئی ایس آئی کے نمائندے نے عدالت کے روبرو بیان دیا کہ ایجنسیاں دھرنے کے پیچھے نہیں ہیں۔

قبل ازیں عدالت کے حکم پر چیف کمشنر نے معاہدے کا متن پڑھ کر سنایا۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ عدالت نے معاہدے کا نہیں بلکہ صرف دھرنا ختم کرانے اور فیض آباد انٹرچینج خالی کرانے کا حکم دیا تھا۔ چیف کمشنر اسلام آباد ذوالفقار حیدر نے کہا کہ کچھ دیر کے بعد دھرنا ختم اور فیض آباد کا علاقہ کلیئر ہو جائے گا۔ عدالت نے کیس کی مزید سماعت 4 دسمبر تک ملتوی کرتے ہوئے آئی بی سے دھرنے کے خلاف پولیس آپریشن کی ناکامی اور سوشل میڈیا پر وائرل آڈیو سے متعلق بھی رپورٹ طلب کی۔

سیکرٹری داخلہ ارشد مرزا نے عدالت کو بتایا کہ ختم نبوت میں ترمیم سے متعلق راجہ ظفر الحق کمیٹی کی رپورٹ تیار نہیں ہوئی۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ مجھے معلوم ہے اس پر ظفر الحق اورمشاہداللہ نے دستخط کر دیئے ہیں لیکن احسن اقبال کے دستخط رہتے ہیں۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے کہا کہ تحریری معاہدہ عدالت میں آج ہی جمع کروائیں اور دھرنا ختم کروانے کے اقدامات کی تفصیل بھی طلب کرلی۔

اس سے پہلے اسلام آباد ہائیکورٹ میں فیض آباد دھرنا کیس کی سماعت ہوئی اور وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت میں پیش نہ ہوئے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ڈپٹی اٹارنی جنرل سے پوچھا کہ وزیر داخلہ کیوں پیش نہیں ہوئے؟ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ وزیر داخلہ دھرنا قیادت سے مذاکرات کیلئے پوری رات جاگتے رہے، اس لیے پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے پوچھا کہ وزیر داخلہ رات بھر جاگ کر کیا کرتے رہے۔ ڈپٹی اٹارنی جنرل نے بتایا کہ دھرنے والوں کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے پوچھا کہ دھرنے والوں سے کیا معاہدہ ہوا تفصیلات بتائیں۔ تو ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ مجھے خود میڈیا سے معلوم ہوا ہے اور معاہدے کی تفصیلات وزیر داخلہ ہی بتائیں گے۔ جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے وزیر داخلہ احسن اقبال کو پندرہ منٹ میں عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔ عدالت کا حکم ملتے ہی وزیر داخلہ احسن اقبال عدالت میں پیش ہوگئے۔

واضح رہے کہ جمعہ 24 نومبر کو پچھلی سماعت میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے دھرنا ختم نہ کرانے پر وزیر داخلہ احسن اقبال کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کرتے ہوئے طلب کیا تھا۔