عدلیہ کو نشان عبرت بنانے کی دھمکیاں دینے والے نہال ہاشمی توہین عدالت کے مجرم قرار
ایک ماہ، قید، پچاس ہزار جرمانہ کے علاوہ پانچ سال کے لئے کسی بھی عہدے کے لئے نااہل
سپریم کورٹ پاکستان نے سینیٹر نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا مجرم قرار دیتے ہوئے ایک ماہ قید کے علاوہ 50 ہزار روپے جرمانہ عائد کر دیا ہے۔
مسلم لیگ ن کے رہنما کو 5 سال کے لیے نااہل بھی قرار دیا گیا ہے۔ فیصلے کے بعد نہال ہاشمی کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا اور انہیں اڈیالہ جیل منتقل کیے جانے کا امکان ہے۔
حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر نے 28 مئی 2017کو کراچی میں تقریرکرتے ہوئے عدلیہ کو دھمکیاں دی تھیں۔
توہین عدالت کا فیصلہ 2 اور 1 کی نسبت سے آیا۔ سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کی معافی کی درخواست مسترد کر دی۔
سپریم کورٹ نے 24جنوری کو کیس کا فیصلہ محفوظ کیا تھا ، سپریم کورٹ کے جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے کیس کا فیصلہ سنایا۔توہین عدالت کا فیصلہ 2 اور 1 کی نسبت سے آیا۔
نہال ہاشمی نے سپریم کورٹ سے غیر مشروط معافی مانگتے ہوئے تحریری معافی نامہ عدالت میں جمع کرایا تھا ۔
نہال ہاشمی نے پاناماکیس کی سماعت کے دوران جے آئی ٹی ممبران اور ججز اور انکے بچوں کو دھمکیاں دی تھیں، جس پر سپریم کورٹ نے نہال ہاشمی کو توہین عدالت کا شوکاز نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کیا تھا ۔