’پاکستانی ٹرانس جینڈر حج پر جا سکیں گے‘
اس برس پاکستانی ٹرانس جینڈر یا مخنث اسکاؤٹس کا ایک گروپ بطور حج رضاکار پاکستانی حاجیوں کے ساتھ سعودی عرب جا سکے گا۔ اس اقلیت کی مرکزی معاشرتی دھارے میں شمولیت کے لیے اس پیشرفت کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
خبر رساں ادارے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن نے پاکستان بوائے اسکاؤٹس ایسوسی ایشن کے سربراہ عاطف امین حسینی کے حوالے سے بتایا ہے کہ پروگرام ہے کہ اس مرتبہ تقریبا چالیس ٹرانس جینڈر افراد کو معاشرے کے مرکزی دھارے میں شامل کرنا ضروری ہے۔ انہوں نے گزشتہ ہفتے ہی تقریبا چالیس ٹرانس جینڈر افراد کو بطور اسکاؤٹس اپنی ایسوسی ایشن کا رکن بنایا تھا۔
ٹیلی فون پر گفتگو کرتے ہوئے حسینی نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا، ’’ہم سب کے لیے برابری کے حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔ ہمیں خوشی ہے کہ ہم نے ٹرانس جینڈر افراد کو اپنی ایسوسی ایشن میں شامل کیا ہے۔‘‘
پاکستان میں عمومی طور پر ٹرانس جینڈر افراد کو اپنے ہی گھرانوں کی طرف سے نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ ایسے افراد کو بھیک مانگنے یا جسم فروشی پر مجبور کیا جانا بھی عام سی بات تصور کی جاتی ہے۔ تاہم حالیہ عرصے کے دوران پاکستان میں اس حوالے سے شعور و آگاہی میں بہتری پیدا ہوئی ہے۔
اب ٹرانس جینڈر افراد کو مسلمانوں کے مقدس ترین مقام پر روانہ کرنا، ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔ عاطف امین حسینی کے مطابق چالیس تا پچاس ٹرانس جینڈر افراد کے ایک گروپ کو بطور رضاکار سعودی عرب روانہ کرنے کا پروگرام بنایا گیا ہے، ’’ہمیں خوشی ہے کہ ہم انہیں حج پر روانہ کریں گے۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس اہم موقع کے لیے تمام اسکاؤٹس کو میرٹ پر منتخب کیا جائے گا۔
پاکستان میں تیسری صنف سے تعلق رکھنے والے افراد کو پہلی مرتبہ مردم شماری میں شمار کیا گیا تھا جبکہ سن دو ہزار سترہ میں تھرڈ سیکس کی علامت X کے نشان کے ساتھ ان افراد کو پاسپورٹ جاری کرنے کا عمل شروع کر دیا گیا تھا۔