نوازشریف اور مریم نواز کی عدلیہ مخالف تقاریر نشر کرنے پر عارضی پابندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

عدالت ِعالیہ لاہور نے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سپریم لیڈر میاں نواز شریف ، ا ن کی صاحبزادی مریم نواز اور دوسرے رہ نماؤں کی عدلیہ مخالف تقاریر ٹیلی ویژن چینلز سے نشر کرنے پر عارضی طور پر پابندی عاید کردی ہے۔

عدالت عالیہ کےجسٹس سید مظاہر علی اکبر نقوی کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے پی ایم ایل این کے لیڈروں کی مبینہ عدلیہ مخالف تقاریر کے خلاف دائرکردہ مختلف درخواستوں کی سماعت کی۔بنچ کے دوسرے دو ارکان جسٹس عاطر محمود اور جسٹس چودھری مسعود جہانگیر ہیں ۔

بنچ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی ( پیمرا) کو ہدایت کی ہے کہ وہ مبینہ توہین آمیز تقاریر کے خلاف دائر کردہ تمام زیر التوا درخواستوں کا پندرہ روز میں فیصلہ کرے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جب تک اتھارٹی ان درخواستوں پر فیصلہ نہیں کرتی ،اس وقت پی ایم ایل ن کے لیڈروں کی عدلیہ مخالف تقاریر کو آیندہ پندرہ روز کے دوران میں نشر کرنے کی اجازت نہیں ہوگی ۔اس نے پیمرا کو ہدایت کی ہے کہ وہ ٹیلی ویژن چینلوں کے پروگراموں کی سختی سے مانیٹرنگ کرے تاکہ ایسے توہین عدالت پر مبنی مواد کو نشر ہونے سے روکا جاسکے۔

عدالت نے میاں نواز شریف کے وکیل اے کے ڈوگر ایڈووکیٹ کی جانب سے دائر کردہ ایک درخواست کو بھی مسترد کردیا جس میں انھوں نے بنچ کے سربراہ جسٹس مظاہر علی اکبر نقوی سے کہا تھا کہ وہ اس سے الگ ہوجائیں ۔انھوں نے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ جج غیر جانبدار نہیں ہیں۔

ایک درخواست گزار کے وکیل ایڈووکیٹ اظہر صدیق نے اپنے دلائل میں کہا کہ آئین کی دفعہ 19 اے کے تحت ہر شہری کو اظہار رائے کی آزادی اور منصفانہ تنقید کا حق حاصل ہے لیکن جسٹس نقوی نے کہا کہ منصفانہ تنقید کا آئینی حق قانون اور قواعد وضوابط سے مشروط ہے۔ کسی کو بھی منصفانہ تنقید کے نام پر عدالتی امور اور فیصلوں کی مذمت کا حق نہیں دیا جاسکتا اور صرف ایک قانونی ماہر یا وکیل ہی ایسے امور پر کوئی منصفانہ تبصرہ کرسکتا ہے۔

واضح رہے کہ میاں نواز شریف ، مریم نواز اور حکمراں جماعت کے دوسرے قائدین عدالت عظمیٰ کے پاناما پیپر کیس کے گذشتہ سال جولائی میں فیصلے کے بعد سے عوامی تقاریر اور جلسوں میں جج صاحبان کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں ۔ان کے خلاف عدالتِ عظمیٰ میں توہین عدالت کی ایک درخواست بھی دائر کی گئی تھی لیکن عدالت نے اس کو مسترد کردیا تھا اور قرار دیا تھا کہ ہر شہری کو عدالت کے فیصلوں پرتبصرے کا حق حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں