حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کوٹا کیس میں عام انتخابات سے چار روز قبل عمر قید کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان میں انسدادِ منشیات کی ایک عدالت نے مسلم لیگ نواز کے ایک رہ نما محمد حنیف عباسی کو ایفی ڈرین کوٹا کیس میں عمر قید کی سزا سنا دی ہے۔وہ 25 جولائی کو ہونے والے عام انتخابات میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے جڑواں شہر راول پنڈی سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 سے عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید احمد کے خلاف امیدوار تھے۔

حنیف عباسی اب نارکوٹیکس کنٹرول عدالت کے فیصلے کے بعد نااہل ہوگئے ہیں۔ انھیں چار روز بعد ہونے والے انتخابات میں شیخ رشید کے مقابلے میں ایک مضبوط امیدوار سمجھا جارہا تھا۔عدالت کے جج نے کافی تاخیر سے ہفتے کی رات گیارہ بجے کے قریب حنیف عباسی کے خلاف فیصلہ سنایا ہے جس پر ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا پر کافی چہ میگوئیاں شروع ہوگئی تھیں ۔

فیصلے کے فوری بعد انسدادِ منشیات فورس کے اہلکاروں نے کمرا عدالت ہی سے حنیف عباسی کو گرفتار کر لیا۔مسلم لیگ کے کارکنان اور حنیف عباسی کے حامیوں نے انھیں گرفتاری سے بچانے کے لیے مزاحمت کی کوشش کی تھی لیکن پھر بھی انھیں اینٹی نارکوٹکس فورس کے اہلکار پکڑ کر لے گئے ۔انھیں بھی اڈیا لا جیل منتقل کیا گیا ہے جہاں سابق وزیراعظم میاں نواز شریف اور ان کی بیٹی مریم نواز قید ہیں ۔

حنیف عباسی اور بعض دوسرے افراد کے خلاف ایفی ڈرین کیس مارچ 2011ء میں سامنے آیا تھا۔ تب وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین نے قومی اسمبلی کو بتایا تھا کہ حکومت دو دوا ساز کمپنیوں برلیکس لیب انٹر نیشنل اور داناس فارما سیوٹیکل کو 9000 کلوگرام ایفی ڈرین کا کوٹا دینے کی تحقیقات کرے گی۔

واضح رہے کہ بین الاقوامی نارکوٹیکس کنٹرول بورڈ کی مقرر کردہ حد اور قواعد وضوابط کے مطابق کسی ایک کمپنی کو پانچ سو کلو گرام سے زیادہ ایفی ڈرین کوٹے میں نہیں دی جاسکتی۔

انسداد منشیات فورس نے جون 2012ء میں حنیف عباسی سمیت نو افراد کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔ان پر اپنی کمپنی گرے فارماسیوٹیکل کے لیے 2010ء میں حاصل کردہ 500 کلوگرام ایفی ڈرین کے غلط استعمال کا الزام عاید کیا گیا تھا۔ان پر یہ بھی الزام عاید کیا گیا تھا کہ انھوں نے ایفی ڈرین کی اس مقدار کو دوا کے طور پر استعمال کرنے کے بجائے منشیات کے اسمگلروں کو فروخت کردیا تھا۔

لاہور ہائی کورٹ کی راول پنڈی بنچ کے جج جسٹس عباد الرحمان لودھی نے 11 جون 2018ء کو اس مقدمے کی سماعت کرنے والی عدالت کے جج کو 21 جولائی تک فیصلہ سنانے کا حکم دیا تھا۔عدالت کو یہ بھی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ اس مقدمے کی16 جولائی سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرے۔

مقبول خبریں اہم خبریں