حزب اختلاف کی جماعتیں اپنا مشترکہ وزیراعظم اور اسپیکر نامزد کریں گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان کی مختلف سیاسی جماعتوں نے حکومت سازی کے عمل میں مشترکہ طور پر حصہ لینے کا فیصلہ کیا ہے اور وزارتِ عظمیٰ ، اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے عہدوں کے لیے اپنے مشترکہ امیدوار نامزد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسلام آباد میں حالیہ عام انتخابات میں مبینہ دھاندلیوں سے متاثرہ سیاسی جماعتوں کی جمعرات کو کثیر جماعتی کانفرنس منعقد ہوئی ہے۔اس کانفرنس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) ،پاکستان پیپلز پارٹی ،متحدہ مجلس عمل اور دوسری سیاسی جماعتوں کے لیڈروں نے شرکت کی ہے۔

بعد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس میں اس اجلاس کے فیصلوں کا اعلان کیا گیا ہے۔سینیٹ میں حزب اختلاف کی لیڈر شیری رحمان اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہ نما مشاہد حسین نے ایک مشترکہ مسودہ تیار کیا ہے۔اس کے مطابق ان جماعتوں کے درمیان یہ طے پایا ہے کہ وزارت عظمیٰ کا امیدوار پی ایم ایل ن سے ہوگا،قومی اسمبلی کے اسپیکر کے عہدے کے لیے امیدوار پی پی پی اور ڈپٹی اسپیکر متحدہ مجلس عمل سے ہوگا۔

شیری رحمان نے میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سیاسی جماعتیں پہلے ہی انتخابی نتائج کو مسترد کرچکی ہیں۔انھوں نے تمام جماعتوں کی طرف سے اعلان کیا کہ نئی کٹھ پتلی حکومت کا مل کر مقابلہ کیا جائے گا اور پارلیمان کے اندر اور باہر دھاندلی زدہ انتخابات کے خلاف احتجاج کیا جائے گا۔

انھوں نے مزید کہا کہ سیاسی جماعتیں آیندہ چند روز میں حالیہ عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلیوں کے بارے میں ایک مشترکہ قرطاس ابیض جاری کریں گی۔انھوں نے کہا کہ ’’ نادرا نے یہ اعتراف کیا ہے کہ اس کے انتخابی نتائج کے نظام (آر ٹی ایس ) میں کوئی نقص پیدانہیں ہوا تھا بلکہ اس کو پُراسرار حالات میں بند کردیا گیا تھا جبکہ الیکشن کمیشن پاکستان کا یہ دعویٰ ہے کہ یہ نظام خراب ہوگیا تھا جس کی وجہ سے انتخابی نتائج کے اعلان میں تاخیر ہوئی تھی لیکن جس سطح پر انتخابات میں دھاندلی کی گئی ہے،اس کو قبول نہیں کیا جاسکتا‘‘۔

اس موقع پر مشاہد حسین سید نے کہا کہ مذکورہ جماعتیں مستقبل کا لائحہ عمل طے کریں گی۔اس سلسلے میں ان کی ایک مشترکہ کمیٹی کا جمعہ کو اجلاس ہوگا۔

عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی ) کے لیڈر میاں افتخار حسین کا کہنا تھا کہ ہم میدان جنگ میں جیت کے لیے کود رہے ہیں۔انھوں نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ وہ حکومت کی تشکیل میں کامیاب ہوجائیں گے۔

ایم ایم اے کے سیکریٹری جنرل لیاقت بلوچ نے کہا کہ تمام جماعتیں جمہوریت اور آئین کے تحفظ کے لیے اکٹھی ہوئی ہیں اور وہ شفاف انتخابات کے انعقاد کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔

ان جماعتوں کی کانفرنس کے بعد حالیہ عام انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے والی جماعت پاکستان تحریک انصاف کے ترجمان فواد چودھری نے کہا کہ حزب اختلاف کو اپنی سیاسی منشا کے اظہار کا حق حاصل ہے لیکن ہم انھیں پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ ان کے جو بھی تحفظات ہیں، وہ سامنے لائے جائیں ۔انھوں نے دعویٰ کہا کہ وزیر اعظم اور اسپیکر کے انتخاب کے لیے پی ٹی آئی کو نو منتخب قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں