پی ٹی آئی کے اسد قیصر قومی اسمبلی کے نئے اسپیکر اور قاسم سوری ڈپٹی اسپیکر منتخب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
6 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے امیدوار اسد قیصر قومی اسمبلی کے نئے اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں اور انھوں نے اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔پی ٹی آئی ہی کے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے رکن اسمبلی قاسم سوری ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں۔

قومی اسمبلی کے سبکدوش ہونے والے اسپیکر سردار ایاز صادق نے بدھ کو اپنے زیر نگرانی نئے اسپیکر کا انتخاب کرایا۔اسد قیصر کے مد مقابل متحدہ اپوزیشن کے امیدوار سید خورشید شاہ تھے۔تمام اراکین اسمبلی نے خفیہ بیلٹ کے ذریعے نئے اسپیکر کے انتخاب کے لیے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔

اسد قیصر کے حق میں پی ٹی آئی اور اس کے اتحادی جماعتوں کے 176 ارکان نے ووٹ ڈالے ہیں ۔ ان کے مخالف امیدوار سید خورشید شاہ کے حق میں 146 ووٹ ڈالے گئے جبکہ آٹھ ووٹ مسترد کر دیے گئے ۔

سردار ایاز صادق نے پی ٹی آئی کے امیدوار کی کامیابی کا اعلان کیا اور پھر ان سے ان کے عہدے کا حلف لیا۔اس دوران میں حزب اختلاف کے ارکان ’’ ووٹ کو عزت دو‘‘ کے نعرے لگاتے رہے۔آئین کے مطابق نئے اسپیکر نے ایوان میں اپنی نشستِ صدارت سنبھالنے کے بعد ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب اپنی نگرانی میں کرایا۔

پی ٹی آئی کے ڈپٹی اسپیکر کے عہدے کے لیے امیدوار قاسم سوری نے 183 ووٹ حاصل کیے۔اس طرح ان کے حق میں نئے اسپیکر کے مقابلے میں سات ووٹ زیادہ ڈالے گئے ہیں۔ان کے مدمقابل متحدہ اپوزیشن اور متحدہ مجلس عمل ( ایم ایم اے) کے امیدوار مولانا اسعد محمود نے 144 ووٹ حاصل کیے۔

نومنتخب ڈپٹی اسپیکر قاسم سوری سے نئے اسپیکر نے حلف لیا۔ قبل ازیں اسد قیصر نے اپنی کامیابی کے اعلان کے بعد اسمبلی میں اپوزیشن کی بنچوں کی جانب گئے اور انھوں نے پہلی قطار میں بیٹھےپی پی پی ، پی ایم ایل این اور ایم ایم اے کے لیڈروں سے فرداً فرداً مصافحہ کیا۔

سبکدوش اسپیکر ایاز صادق نے اپنی الوداعی تقریر میں اپنی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن اور حزب ِاختلاف کی تما م جماعتوں کا گذشتہ پانچ سال کے دوران میں تعاون پر شکریہ ادا کیا۔ انھوں نے نئے اسپیکر اسد قیصر اور ان کے حریف امیدوار سید خورشید شاہ دونوں کو مبارک باد دی ۔انھوں نے اراکین اسمبلی سے کہا کہ وہ اختلافات کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کریں اور پاکستان کی بہتری کے لیے سب مل جل کر کام کریں۔

واضح رہے کہ قومی اسمبلی کی کل 342 نشستیں ہیں۔ ان میں 272 عام نشستیں ہیں۔ 60 خواتین کے لیے مخصوص ہیں اور 10 اقلیتوں کے لیے مختص نشتیں ہیں۔ 25 جولائی کو منعقدہ عام انتخابات میں قومی ا سمبلی کی 270 نشستوں کے لیے ووٹ ڈالے گئے تھے۔راول پنڈی میں قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 سے پاکستان مسلم لیگ نواز کے امیدوار حنیف عباسی کی نااہلی اور فیصل آباد سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 130 سے انتخاب میں حصہ لینے والے ایک امیدوار کی وفات کے بعد پولنگ ملتوی کردی گئی تھی۔

الیکشن کمیشن آف پاکستان نے قومی اسمبلی کی 339 نشستوں کے نتائج کا ا علان کیا ہے اور سانگھڑ سے این اے 215 سے جیتنے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار فدا ڈیرو کی کامیابی کا نوٹی فیکشن جاری نہیں کیا ہے۔سوموار کو قومی اسمبلی کے 326 ارکان نے حلف اٹھایا تھا مگر پی ٹی آئی کے ضلع جھنگ سے منتخب ہونے والے دو ارکان صاحبزادہ محبوب سلطان اور عامر سلطان اپنی والدہ کی وفات کی وجہ سے افتتاحی اجلاس میں شرکت نہیں کرسکے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں