بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے نواز شریف ، مریم اور صفدر کی پیرول پر رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

پاکستان کے سابق وزیراعظم میاں نوازشریف ،ان کی بیٹی مریم نواز اور داماد ریٹائرڈ کپتان محمد صفدر کو سابق خاتون اوّل بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ میں شرکت کے لیے راول پنڈی کی اڈیالا جیل سے پیرول پر رہا کردیا گیا ہے۔

بیگم کلثوم نواز طویل علالت کے بعد منگل کو لندن میں ایک اسپتال میں انتقال کر گئی تھیں۔ وہ گلے کے سرطان میں مبتلا تھیں ۔ وہ لندن کی ہارلے اسٹریٹ میں واقع ایک نجی اسپتال میں گذشتہ سال اگست سے زیر علاج تھیں۔اس دوران میں جون 2018ء میں انھیں دل کا دورہ بھی پڑا تھا۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی ترجمان مریم اورنگ زیب نے بدھ کی شام ایک بیان میں کہا ہے کہ بیگم کلثوم نواز کی نماز جنازہ جمعہ 14 ستمبر کو جاتی امرا ، لاہور میں واقع شریف میڈیکل سٹی میں ادا کی جائے گی۔ میاں نواز شریف کے چھوٹے بھائی اور مسلم لیگ ن کے صدر میاں شہباز شریف مرحومہ کی میت لینے کے لیے لندن روانہ ہوگئے ہیں۔ان کی ایک نماز جنازہ لندن میں ریجنٹ پارک میں واقع مسجد میں ادا کی جائے گی ۔

انھوں نے ہی سابق وزیراعظم ، اپنی بھتیجی مریم اور داماد محمد صفدر کی پیرول پر رہائی کے لیے حکومت کو درخواست دی تھی جس پر ان تینوں کو آج صبح بعض اطلاعات کے مطابق تین یا پانچ دن کے لیے رہا کر دیا گیا ہے اور وہ اس کے بعد ایک طیارے کے ذریعے لاہور پہنچ چکے ہیں۔ مقامی میڈیا کی اطلاع کے مطابق حکام نے جاتی امرا میں واقع ان کی رہایش گاہ میں تین کمروں کو سب جیل قرار دے دیا گیا ہے۔

شریف خاندان کے ذرایع کے مطابق سابق وزیراعظم کے دونوں بیٹے حسین اور حسن نواز اپنی والدہ کی میت کے ساتھ لاہور نہیں آئیں گے۔البتہ ان کی دوسری بیٹی اسماء اور پوتا زکریا شریف تابوت کے ساتھ پاکستان آئیں گے۔وہ جمعہ کی صبح پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کی ایک پرواز میں میت لے کر پاکستان پہنچیں گے ۔مرحومہ کواسی روز جاتی امرا میں شریف خاندان کےآبائی قبرستان میں ان کے سسر میاں شریف کے قبر کے پہلو میں سپرد خاک کردیا جائے گا۔

بیگم کلثوم نواز کی طبیعت گذشتہ اتوار کو اچانک بگڑ گئی تھی۔ وہ مصنوعی تنفس کے سہارے زندہ تھیں مگر وہ جانبر نہ ہوسکیں اور منگل کو وفات پا گئیں۔ان کی رحلت پر وزیراعظم عمران خان سمیت ملک کے مختلف سیاست دانوں ، سیاسی کارکنان اور زندگی کے مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نے تعزیت کا اظہار کیا ہے۔

انھوں نے مرحومہ خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایک سنجیدہ ، سلجھی ہوئی اور مہذب خاتو ن تھیں۔ سابق فوجی صدر پرویز مشرف نے جب 12 اکتوبر 1999ء کو ان کے خاوند میاں نواز شریف کی حکومت ختم کی اور انھیں اور دیگر مسلم قائدین کو جیل میں ڈال دیا تو وہ ان کے ان غیر قانونی اقدامات کے خلاف سیاسی جدوجہد کے لیے میدان میں آئیں اور مشرف آمریت کے خلاف ڈٹ گئیں۔

انھوں نے ساری زندگی اپنے خاوند میاں نواز شریف کا ہر طرح کے حالات میں بھرپور ساتھ دیا۔انھوں نے ہی اپنی بیٹی مریم نواز کے سیاست میں آنے اور اپنے باپ کا سہارا بننے کی حوصلہ افزائی کی تھی۔انھیں ایک گھریلو خاتون ہونے کے باوجود جنرل پرویز مشرف کی آمریت کے خلاف سینہ سپر ہوجانے پر پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں