.

سعودی عرب کے اعلیٰ سطح کے وفد کی پاکستان کے سرکاری دورے پرآمد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کا اعلیٰ سطح کا ایک وفد چھے روزہ سرکاری دورے پر اتوار کو پاکستان پہنچ گیا ہے۔سعودی وفد پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کے حالیہ دورۂ سعودی عرب کے بعد آیا ہے۔

وزیراعظم کے مشیر برائے تجارت عبدالرزاق داؤد نے بتایا ہے کہ سعودی وفد کے دورے کے موقع پر دونوں ممالک کے درمیان تیل ، گیس اور توانائی کے شعبوں میں سرمایہ کاری سے متعلق پانچ سمجھوتوں اور مفاہمت کی یادداشتوں پر دست خط کیے جائیں گے۔

سعودی وفد اپنے قیام کے دوران میں پاکستا ن کے اعلیٰ عہدے داروں سے دونوں ملکوں کے درمیان دوطرفہ تجارتی اور اقتصادی تعلقات کے فروغ کے لیے بات چیت کرے گا۔مہمان وفد کی سوموار کو مشیر تجارت عبدالرزاق داؤد ، وزیر خزانہ اسد عمر اور پیٹرولیم کے وزیر غلام سرور خان سے ملاقات ہوگی۔وہ بالخصوص توانائی کے شعبے میں سعود ی عرب کی جانب سے سرمایہ کاری کے امکانات کا جائزہ لیں گے۔

سعودی عرب نے قبل ازیں گوادر شہر میں اربوں ڈالرز کی لاگت سے تیل صاف کرنے کا ایک کارخانہ لگانے کی پیش کش کی ہے۔اس نے صوبہ پنجاب میں مائع قدرتی گیس ( ایل این جی) سے چلنے والے پاور پلانٹس کے حصص خرید کرنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔سعودی وفد گوادر بندرگاہ اور صوبہ بلوچستان میں ریکوڈک منصوبے کا بھی دورہ کرے گا۔

واضح رہے کہ پاکستان نے سعودی عرب کو پاک چین اقتصادی راہداری ( سی پیک) کے منصوبوں میں بھی تیسرا شراکت دار بننے کی پیش کش کی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات فواد حسین چودھری نے وزیراعظم کے دورے کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں کہا تھا کہ سعودی عرب نے سی پیک کے منصوبوں میں سرمایہ کاری میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے اور اس کے ساتھ طے پانے والے سمجھوتے شفاف ہوں گے۔

دونوں ملکوں نے گذشتہ جمعرات کو مفاہمت کی تین یادداشتوں پر دستخط کیے تھے۔ان کے تحت صوبہ خیبر پختونخوا اور پاکستان کے زیر انتظام ریاست آزاد جموں وکشمیر میں صحت اور تعلیم کے شعبوں کے منصوبوں کے لیے سعودی عرب گرانٹ مہیا کرے گا۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی متوقع سرمایہ کاری سے پاکستان کی معیشت کو سنبھالا دینے میں مدد ملے گی۔اس کے علاوہ روزگار کے بھی مزید مواقع پیدا ہوں گے۔سعودی عرب اگر گوادرمیں تیل صاف کرنے کا کارخانہ لگاتا ہے تو وہ ریفائنری کی نئی اور جد ید ٹیکنالوجی متعارف کرائے گا ۔پاکستان میں اس وقت تیل صاف کرنے کی صلاحیت ایک کروڑ 90 لاکھ ٹن کے لگ بھگ ہے ۔ریفائنری کا یہ زیادہ تر کام پرانی ٹیکنالوجی کے ذریعے کیا جاتا ہے۔