پاکستان کی مسلح افواج کو بھارت کی کسی بھی مہم جوئی کا مسکت جواب دینے کا اختیار

قومی سلامتی کونسل کی ملک میں دہشت گردی مخالف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت ،فلاحِ انسانیت پر پابندی بحال کرنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

پاکستان کی قومی سلامتی کونسل نے ریاست کی عمل داری کی بحالی کے لیے دہشت گردی مخالف کارروائیاں تیز کرنے کی ہدایت کی ہے اور مسلح افواج کو بھارت کی جانب سے کسی بھی جارحیت یا مہم جوئی کا فیصلہ کن اور جامع انداز میں جواب دینے کا باضابطہ اختیا ر دے دیا ہے۔

کونسل نے پروفیسر حافظ محمد سعید کے زیر قیادت جماعت الدعوۃ اور ا س کے تحت انسانی امدادی سرگرمیوں میں مصروف کار فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی بحال کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔قومی سلامتی کونسل کا اجلاس جمعرات کو اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت ہوا ۔

اجلاس میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سمیت تینوں مسلح افواج کے سربراہان اور بعض وفاقی وزراء نے شرکت کی۔ شرکاء نے بھارت کے زیر انتظام ریاست مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع پلوامہ میں تباہ کن بم دھماکے کے تناظر میں قومی سلامتی کے ماحول اور جغرافیائی سیاسی صورت حال کا جائزہ لیا اور بعض اہم فیصلے کیے ۔

واضح رہے کہ سابق صدر ممنون حسین نے گذشتہ سال ایک آرڈی ننس نافذ کیا تھا۔اس کے تحت انسداد دہشت گردی ایکٹ میں ترمیم کی گئی تھی ۔اس کے تحت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دہشت گرد ی میں ملوّث افراد اور تنظیموں کی فہرست میں شامل پاکستانیوں کے ناموں کو ملک کی اس ممنوعہ فہرست میں شامل کر لیا گیا تھا۔

اس اقدام کے تحت جماعت الدعوہ پاکستان اور فلاح انسانیت فاؤنڈیشن کے نام دہشت گردی میں ملوث یا اس کی معاونت کرنے والی تنظیموں اور افراد کی فہرست میں شامل کر لیے گئے تھےلیکن اس آرڈی ننس کی مدت ختم ہوجانے کے بعد ان دونوں تنظیموں کے نام پاکستان کی ممنوعہ افراد اور اداروں کی فہرست سے خارج ہوگئے تھے ۔اب پی ٹی آئی کی حکومت نے وزارت داخلہ کے ذریعے ان دونوں تنظیموں کے نام دوبارہ پابندیوں کا شکار تنظیموں میں شامل کر لیے ہیں۔

اجلاس کے شرکاء نے واضح کیا کہ پاکستان کی ریاست کسی بھی طرح، کسی بھی ذریعے سے پلوامہ حملے میں ملوث نہیں ہے ۔اس حملے کی مقامی سطح پر یعنی مقبوضہ کشمیر ہی میں منصوبہ بندی کی گئی تھی اور وہیں اس پر عمل درآمد کیا گیا ہے ۔

اجلا س کے بعد جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے اس واقعے کی تحقیقات کے لیے بھارت کو مدد کی مخلصانہ پیش کش کی تھی ۔وہ دہشت گردی اور دوسرے متنازعہ امور پر مذاکرات کے لیے تیار ہے۔ بیان میں اس توقع کا اظہار کیا گیا ہے کہ بھارت اس پیش کش کا مثبت جواب دے گا۔ کونسل نے واضح کیا ہے کہ پاکستان دہشت گرد ی کے لیے اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت نہیں دے گا اور جو کوئی بھی ایسا کرے گا اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

تاہم اس نے بھارت پر زور دیا ہے کہ ’’وہ اپنی پالیسیوں کا باریک بینی سے اندرونی جائزہ لے اور یہ دیکھے مقبوضہ کشمیر میں لوگوں کو موت کا خوف کیوں نہیں رہا ہے اور وہ موت کے خوف سے کیوں بے نیاز ہوگئے ہیں‘‘۔

کونسل نے یہ بات زور دے کر کہی ہے ’’ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے لوگوں پر تشدد سے بہت سخت ردعمل پیدا ہورہا ہے۔ عالمی برادری کو اس دیرینہ تنازع کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرنے کے لیے کردار ادا کرنا چاہیے اور کشمیریوں کو ان کا پیدائشی حق حقِ خود ارادیت دیا جائے‘‘۔

بیان میں وزیراعظم عمران خان کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ’’ یہ نیا پاکستان ہے اور ہم اپنے عوام کو یہ یقین دہانی کرانے کے لیے تیار ہیں کہ ریاست ان کے تحفظ کی صلاحیت کی حامل ہے ۔ہم یہ تسلیم کرتے ہیں کہ دہشت گردی اور انتہا پسندی خطے کو درپیش م سائل میں سرفہرست ہیں ۔پاکستان سمیت پورے خطے نے ان کا خمیازہ بھگتا ہے۔پاکستان میں ستر ہزار سے زیادہ افراد دہشت گردی کے واقعات کی نذر ہوئے ہیں۔قومی خزانے کو اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچ چکا ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں