.

میاں نواز شریف کی طبی بنیاد پر رہائی کے لیے دائر درخواست ضمانت مسترد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان کے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کی طبی بنیاد پر جیل سے ضمانت پر رہائی کے لیے دائر کردہ درخواست کو مسترد کردیا ہے۔

عدالتِ عالیہ کے جج جناب جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل بنچ نے کھلی عدالت میں سماعت کے بعد سوموار کو مختصر حکم جار ی کیا ہے اور کہا ہے کہ العزیزیہ کرپشن ریفرینس کیس میں میاں نواز شریف کی طبی بنیاد پر ضمانت کے لیے دائر درخواست میرٹ کے تقاضے پورے نہیں کرتی ہے۔

میاں نواز شریف کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ
انھیں جیل سے باہر علاج کی ضرورت ہے ،ان کے پیچیدہ امراض کے پیش نظر ان کا جیل میں علاج ممکن نہیں لیکن عدالت نے اپنے نو صفحات پر محیط حکم میں کہا ہے کہ سابق وزیراعظم کو قید کی حالت میں علاج کی بہتر سہولت میسر ہے جو کسی بھی عام پاکستانی کو دستیاب ہوسکتی ہے۔ان کی پیش کردہ میڈیکل رپورٹس کی بنا پر ان کی صحت کی حالت کو کسی بھی طرح غیر معمولی قرار نہیں دیا جاسکتا۔

فیصلے میں کہا گیا ہے کہ عدالت کو آئین کی دفعہ 199 کے تحت کسی بھی قیدی یا زیر حراست شخص کو ضمانت پر رہا کرنے یا ا س کی سزا معطل کرنے کا اختیار حاصل ہے ۔تاہم ایسا اختیار صرف غیر معمولی حالات ہی میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔اس ضمن میں بنچ نے مختلف مقدمات کے حوالے بھی دیے ہیں ۔ان میں پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک سابق صوبائی وزیر شرجیل انعام میمن کا کیس بھی شامل تھا اور انھیں عدالت نے طبی بنیاد پر ضمانت پر رہا کرنے سے انکار کردیا تھا۔

عدالت نے کہا ہے کہ میاں نواز شریف کی طبی حالت سے متعلق پیش کردہ میڈیکل رپورٹس میں سے کسی سے بھی یہ بات واضح نہیں ہوتی ہے کہ مسلسل قید میں رکھنے کی صورت میں ان کی زندگی کو کوئی خطرہ لاحق ہوسکتا ہے۔نیز انھیں جب کبھی طبی معائنے یا علاج کی ضرورت پیش آئی تو انھیں جیل سے اسپتال منتقل کیا گیا ہے۔اس لیے ان کی درخواست میرٹ پر پورا نہ اترنے کی بنا پر مسترد کی جاتی ہے۔

مسلم لیگ نواز کے کئی ایک سینئر رہ نما عدالت میں فیصلہ سننے کے لیے موجود تھے ۔اس موقع پر ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے فیصلے کو "مایوس کن" قرار دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’ہم نے ہمیشہ عدالتی احکامات کا احترام کیا ہے اور اس حکم کا بھی احترام ک ریں گے اور دستیاب قانونی راستے اختیار کریں گے۔انھوں نے کہا کہ جیل میں میاں نواز شریف کا علاج ممکن نہیں ،اس لیے ان کی ضمانت پر رہائی ضروری ہے۔

واضح رہے کہ میاں نواز شریف کو دس روز قبل لاہور کی کوٹ لکھپت جیل سے جناح اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔انھوں نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے سے قبل اپنے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف اور بیٹی مریم نواز سے کوئی تین گھنٹے تک ملاقات کی اور اس کے بعد جناح اسپتال میں مزید زیر علاج رہنے کے بجائے واپس جیل جانے کا فیصلہ کیا۔ اس پر انھیں دوبارہ کوٹ لکھپت جیل منتقل کر دیا گیا ہے۔