پاکستان مختلف شعبوں میں سعودی سرمایہ کاری کے لئے تیار ہے: صادق سنجرانی

سینیٹ آف پاکستان اور سعودی شوری کونسل کے درمیان ادارہ جاتی تعاون مستحکم بنانے پر زور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

چیئرمین سینٹ آف پاکستان صادق سنجرانی نے کہا ہے کہ پاکستان اور سعودی عرب دوستی کے لازوال رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔ تجارت اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو فروغ دینے کیلئے وسیع گنجائش موجود ہے۔ سعودی سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے متنوع مواقع سے مستفید ہو سکتے ہیں۔ صادق سنجرانی نے دفاعی شعبوں میں تعاون کو بھی انتہائی اہم قرار دیا۔دونوں ملکوں نے دفاع کے شعبے میں تعاون کیلئے مفاہمتی یاداشتوں پر دستخط بھی کیے ہوئے ہیں۔

ان خیالات کا اظہار جناب سنجرانی نے بدھ کے روز سعودی پارلیمانی وفد کے دورہ پارلیمنٹ ہاؤس کے موقع پر کیا۔ سعودی وفد کی قیادت شوری کونسل کے سربراہ شیخ ڈاکٹر عبداللہ بن ابراھیم آل الشیخ کر رہے تھے۔ اس موقع پر چیئرمین سینیٹ کے ہمراہ قائد ایوان شبلی فراز، راجہ محمد ظفرالحق، شیری رحمان اور دیگر ارکان بھی موجود تھے۔

چیئرمین سینیٹ نے سعودی ولی عہد کی جانب سے پاکستانی قیدیوں کی رہائی کے فیصلے کو ایک مثبت اقدام قرار دیا۔ انھوں نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سپریم کوارڈی نیشن کونسل کے قیام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم پاکستانیوں کیلئے حج کوٹہ بڑھانے اور ویزا فیس میں کمی فیصلے کا بھی خیر مقدم کرتے ہیں۔ صادق سنجرانی نے سعودی شوری کونسل کے چیئرمین کا شکریہ ادا کیا۔

چیئرمین سعودی شوری کونسل شیخ ڈاکٹرعبداللہ بن ابراھیم آل الشیخ نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب کیلئے انتہائی اہم ملک ہے۔ کونسل، پاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان، سعودی عرب کیلئے انتہائی اہم ملک ہے اور ہم پاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو انتہائی اہمیت دیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے عوام کا آپس میں ایک دوسرے سے باہمی محبت کا رشتہ ہے یہ تعلق نہ صرف مذہبی رشتے کی وجہ ہے بلکہ وہ پاکستانی جو مسلمان نہیں ہیں ان کے بھی سعودی عرب کے حوالے سے جذبات انتہائی قابل قدر ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے تعلقات کو استحکام دینے میں خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان اور شہزادہ محمد بن سلمان کا کلیدی کردار ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان سینیٹ اور سعودی شوری کونسل کے مابین ادارہ جاتی تعاون پر مثبت پیش رفت ہونی چاہیے۔ سعودی وفد کے اراکین نے کہا کہ دونوں ملکوں کے مابین تعلقات فقید المثال ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی دنیا میں پاکستان ایک الگ شناخت کا ملک ہے اور یہ امر قابل ذکر ہے کہ دنیا میں اس وقت سب سے زیادہ حفاظ پاکستان سے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ گوادر خطے کے ترقیاتی مرکز کے طور پر ابھر رہا ہے اور سعودی عرب یہاں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ انہوں نے پارلیمنٹ ہاؤس آمد پر پرتباک استقبال پر چیئرمین سینیٹ اور سینیٹ کی اعلیٰ قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

قبل ازیں سعودی وفد جب پارلیمنٹ ہاؤس پہنچا تو چیئرمین سینیٹ اور دیگر سینیٹرز نے وفد کا استقبال کیا۔ وفد کے سربراہ نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات بھی درج کیے۔ صادق سنجرانی نے کہا کہ امت مسلمہ کو اس وقت مشکلات کا سامنا ہے اور دونوں ملکوں کے مابین تعلقات کی مضبوطی سے حالات بہتری کی جانب گامزن ہوں گے۔ پاکستان سینیٹ اور سعودی شوری کونسل کے درمیان ادارہ جاتی تعاون کو بھی مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔

چیئرمین سینیٹ نے پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان سپریم کوارڈی نیشن کونسل کے قیام کو خوش آئند قرار دیا اور اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کونسل سیاسی، اقتصادی، سماجی اور ثقافتی سطح پر نتیجہ خیز اقدامات کرنے کیلئے معاون ثابت ہو گی۔ چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ پاکستان اور سعودی عرب نے مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 23 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کر رہے ہیں۔

صادق سنجرانی نے شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور ولی عہد محمد بن سلمان کیلئے نیک خواہشات کا اظہار بھی کیا۔ انھوں نے کہا کہ سعودی شوری کونسل کے چیئرمین اور وفد کے اراکین کے اس دورے کے مثبت نتائج برآمد ہوں گے اور دونوں ملکوں میں تعاون کیلئے نئی راہیں ہموار ہوں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں