.

پاکستان کا بھارت سے سفارتی تعلقات کا درجہ گھٹانے کا فیصلہ ، دوطرفہ تجارت معطل

چودہ اگست کو پاکستان کا یومِ آزادی کشمیریوں اور ان کے حق خود ارادیت کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر منایا جائے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کی قومی سلامتی کمیٹی نے متنازع ریاست مقبوضہ جموں وکشمیر کے بارے میں بھارت کے حالیہ اقدامات کے ردعمل میں نئی دہلی کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات کا درجہ گھٹانے اور تمام دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس بدھ کو اسلام آباد میں وزیراعظم عمران خان کے زیر صدارت منعقد ہوا اور اس میں بھارت کے مقبوضہ جموں وکشمیر کے بارے میں حالیہ یک طرفہ اور غیر قانونی اقدام اور حد متارکہ جنگ (لائن آف کنٹرول) کی صورت حال کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اجلاس میں پاکستان کی اعلیٰ فوجی اور سول قیادت شریک تھی۔

اجلاس میں پاکستان کے بھارت کے ساتھ دو طرفہ سمجھوتوں کا ازسر نو جائزہ لینے اور کشمیر کے خصوصی درجہ کی تنسیخ کا معاملہ اقوام متحدہ اور اس کی سلامتی کونسل میں اٹھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

کمیٹی نے چودہ اگست کو پاکستان کا یومِ آزادی کشمیریوں اور ان کے حق خود ارادیت کے ساتھ اظہار یک جہتی کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا ہے اور پندرہ اگست کو بھارت کا یومِ آزادی یومِ سیاہ کے طور پر منایا جائے گا۔

اجلاس کے بعد جاری کردہ ایک بیان کے مطابق وزیراعظم نے بھارت کے نسل پرست رجیم کی سفاکیت اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو طشت ازبام کرنے کے لیے تمام سفارتی چینلوں کو فعال کرنے کی ہدایت کی ہے۔

انھوں نے مسلح افواج کو بھی چوکس رہنے کی ہدایت کی ہے۔اجلاس میں نئی دہلی میں متعیّن پاکستانی سفیر کو واپس بلانے اور بھارتی سفیر کو بے دخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے گذشتہ سوموار کو عجلت میں جاری کیے گئے ایک صدارتی حکم کے ذریعے کشمیریوں کو گذشتہ سات عشروں سے حاصل خصوصی خود مختاری سے محروم کردیا ہے۔بھارتی حکومت نے مقبوضہ ریاست جموں وکشمیر میں غیر معیّنہ مدت کے لیے کرفیو نافذ کردیا ہے اور کشمیری قیادت کو ان کے گھروں میں نظربند کردیا ہے۔

صدارتی حکم کے تحت بھارتی آئین کی دفعہ 370 کو منسوخ کردیا گیا ہے اور اب بھارت بھر سے تعلق رکھنے والے افراد کشمیر میں جائیدادیں خرید کرسکتے ہیں اور وہاں مستقل طور پر آباد ہوسکتے ہیں۔بھارتیہ جنتا پارٹی کی قوم پرست حکومت کے ناقدین اور کشمیریوں کا کہناہے کہ اس دفعہ کی تنسیخ سے جموں وکشمیر کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی کوشش کی جارہی ہے اور وہاں ہندوؤں کو لابسایا جائے گا۔اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ مسلمانوں کی تعداد کم اور ہندوؤں کی تعداد بڑھ جائے گی۔

مزید برآں بھارت کے وزیر داخلہ اور حکمراں جماعت بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے ایک بل پارلیمان میں پیش کیا ہے۔اس میں مقبوضہ ریاست کو دو یونین علاقوں میں تقسیم کرنے اور اس کو براہ راست نئی دہلی کی حکمرانی میں دینے کی تجویز پیش کی گئی ہے۔

پاکستان نے بھارت کے ان تمام غیر قانونی اقدامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے اور ان کے توڑ کے لیے تمام ممکنہ آپشنز استعمال کرنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔وزیراعظم عمران خان نے منگل کو اس معاملے کو ہر فورم پر اٹھانے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ انھوں نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر مسلم مخالف ایجنڈے پر عمل پیرا ہونے کا الزام عاید کیا تھا اورعالمی برادری سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کرے۔

انھوں نے ایک سات رکنی کمیٹی تشکیل دی ہے جو بھارت کے مقبوضہ جموں و کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے اقدام کے ردعمل میں پاکستان کا قانونی ، سیاسی اور سفارتی موقف وضع کرے گی۔