مذہبی اختلافات کی بنا پر لڑی جنگوں نے یورپ کو 80 سال تک کھپایا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

سترھویں صدی کے دوران، یورپی براعظم نے اپنی تاریخ کی سب سے تباہ کن اور غیر معمولی جنگوں کا سامنا کیا۔

1618 میں شروع ہونے والی تیس سالہ جنگ کے دوران کم از کم 50 لاکھ افراد ہلاک ہوئے کچھ جنگوں اور لڑائیوں میں مارے گئے جبکہ دیگر ان وباؤں، بیماریوں اور قحط کا شکار ہوئے جو خاص طور پر جرمن ریاستوں کے علاقوں میں اس جنگ کے نتیجے میں پھیل گئیں۔

یورپ 1568 سے مسلسل اسی سالہ جنگ کی لپیٹ میں تھا، جو مذہبی، ثقافتی، سیاسی اور معاشی وجوہات کی بنا پر اسی سال یعنی 1568 میں شروع ہوئی تھی۔

مگر 1648 تک یہ دونوں جنگیں ایک ہی وقت میں اپنے اختتام کو پہنچ گئیں، اور اس کا سہرا ویسٹ فیلیا کے معاہدوں (Westphalia Agreements) کو جاتا ہے۔

یورپ میں جنگوں کے کئی عشرے

اسی وجہ سے اسی سالہ جنگ (Eighty Years’ War) نیدرلینڈ (موجودہ ہالینڈ) اور اسپین کے درمیان اختلافات کے باعث بھڑک اٹھی۔ کئی برسوں تک نچلے علاقےجو اسپین کی حکمران ہابس برگ (Habsburg) خاندان کے زیرِ اقتدار تھے، میں پروٹسٹنٹ مذہبی اصلاحات ابھر کر سامنے آئیں۔ اس کے برعکس، اسپین ایک کیتھولک ریاست تھی جو ان اصلاحات کی سخت مخالفت کرتی تھی۔

فلپ دوم (Philip II) کی حکمرانی کے دوران، اسپین نے نچلے علاقوں کے باشندوں پر سختیاں کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی، کیونکہ ان میں سے بہت سے لوگوں نے کیتھولک مذہب چھوڑ دیا تھا۔ دوسری جانب، فلپ دوم نے نچلے علاقوں کے خلاف سخت اقتصادی پالیسی بھی اپنائی، جس کے تحت اُس نے تاجروں پر بھاری ٹیکس عائد کیے اور انتظامی و حساس عہدوں پر صرف ہسپانوی افراد کو مقرر کیا۔

اس صورتحال کے پیشِ نظر نچلے علاقوں نے ہسپانوی اقتدار کے خلاف بغاوت کر دی، جس سے اسی سالہ جنگ (Eighty Years’ War) کا آغاز ہوا۔ اس جنگ کے دوران کئی جنگ بندیوں کا اعلان کیا گیا، اور نچلے علاقوں کو انگلستان اور فرانس کی جانب سے بھرپور حمایت حاصل ہوئی۔

بعد ازاں 1618ء میں یورپ میں ایک اور عسکری تنازعہ بھڑک اٹھا، جو مقدس رومی سلطنت (Holy Roman Empire) کے مرکز میں وقوع پذیر ہوا۔ کئی دہائیوں سے مقدس رومی سلطنت پروٹسٹنٹ اور کیتھولک علاقوں میں منقسم تھی۔

اگرچہ 1555ء میں آگسبرگ کے معاہدۂ امن (Peace of Augsburg) پر دستخط کیے گئے تھے، مگر ہابس برگ (Habsburg) خاندان کی اُن پالیسیوں کے باعث، جو اس وقت مقدس رومی سلطنت پر حکمران تھا، سلطنت میں سکون قائم نہ ہو سکا کیونکہ ان پالیسیوں کا رخ پروٹسٹنٹوں کے خلاف تھا۔

جنگ اُس وقت شروع ہوئی جب بوہیمیا (موجودہ چیک جمہوریہ) کے باشندوں نے بادشاہ فریڈینینڈ دوم (Ferdinand II) کے خلاف بغاوت کی اور اس کے سفیروں کو پراگ کے قلعے کی کھڑکیوں سے باہر پھینک دیا ، یہ واقعہ تاریخ میں "کھڑکیوں سے پھینکنے کا واقعہ" (Defenestration of Prague) کے نام سے مشہور ہوا۔ جلد ہی یہ تنازعہ پھیل کر فرانس، ڈنمارک اور سویڈن کو مقدس رومی سلطنت کے خلاف شامل کر گیا، اور بعد میں یہ تصادم "تیس سالہ جنگ" (Thirty Years’ War) کے نام سے جانا گیا۔

ویسٹ فیلیا کے معاہدات

یہ دونوں جنگیں کئی دہائیوں تک جاری رہیں کیونکہ کیتھولک اور پروٹسٹنٹ فریقین مذاکرات کی میز پر ایک ساتھ بیٹھنے پر آمادہ نہیں تھے۔ تاہم 1644ء میں سبھی فریقین نے امن کی طرف رجحان دکھایا اور ابتدا میں جرمنی کے شہر مینسٹر (Münster) میں ملاقات کا فیصلہ کیا، بعد ازاں 1645ء میں وہ جرمنی ہی کے دوسرے شہر اوسنابروک (Osnabrück) منتقل ہو گئے۔

جنوری 1648ء کے آخر میں ویسٹ فیلیا کے پہلے معاہدے پر دستخط جرمنی کے شہر مینسٹر (Münster) میں کیے گئے۔ اس معاہدے نے ہسپانویوں اور نچلے علاقوں (موجودہ ہالینڈ) کے درمیان جاری اسی سالہ جنگ کا خاتمہ کیا۔ معاہدے کے تحت اسپین نے نچلے علاقوں کی خودمختاری اور ہسپانوی تاج سے آزادی کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔

اسی سال بعد 24 اکتوبر 1648ء کو اسی شہر مینسٹر (Münster) میں فرانس اور مقدس رومی سلطنت کے درمیان ایک اور معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس معاہدے کے مطابق، مقدس رومی سلطنت نے الزاس (Alsace) پر اپنے تمام حقوق فرانس کے حق میں چھوڑ دیے۔ اس کے علاوہ، فرانس کو اٹلی میں بھی مزید سیاسی و علاقائی فائدے حاصل ہوئے۔

اسی دن اوسنابروک (Osnabrück) میں سویڈن اور مقدس رومی سلطنت کے درمیان ایک اور معاہدے پر دستخط ہونے کا اعلان بھی کیا گیا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں سویڈن کو شمالی جرمن ریاستوں میں مزید اثر و رسوخ حاصل ہوا۔

مزید برآں ان معاہدات میں مقدس رومی سلطنت میں مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی اور دوسری ریاستوں کی داخلی خودمختاری اور خودمختار حیثیت کے احترام پر بھی زور دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں