.

قومی اسمبلی میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل کثرت رائے سے منظور

پاکستان کے تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کی زیادہ سے زیادہ عمر 64 برس مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستانی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں [قومی اسمبلی] سے منظور ہونے والے آرمی ایکٹ ترمیمی بل میں فوج، ایئر فورس اور نیوی کے سربراہوں کی زیادہ سے زیادہ عمر 64 برس مقرر کر دی گئی ہے۔

پاکستان کی قومی اسمبلی نے کثرت رائے سے آرمی ایکٹ ترمیمی بل کی منظوری دے دی ہے۔ اس بل کی منظوری کے بعد اب صدر پاکستان، وزیراعظم پاکستان کے مشورے پر تینوں مسلح افواج کے سربراہوں کی مدت ملازمت میں تین برس کی توسیع کرنے کے مجاز ہو گئے ہیں۔ توسیع ایک مرتبہ ہی کی جا سکے گی۔ منظور شدہ ایکٹ کے تحت فوج کے سربراہان کی مدت ملازمت مکمل ہونے پر اس میں توسیع یا دوبارہ تقرری وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہو گا جس کو عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکے گا۔

گذشتہ برس پاکستان کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم عمران خان کی جانب سے فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں تین سال کی توسیع کے فیصلے کو چیلنج کیا گیا تھا۔ فوجی سربراہ کی تقرری تین برس کے لیے ہوتی ہے لیکن جنرل باجوہ سے قبل بھی کئی فوجی سربراہان یہ توسیع لے چکے ہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 2016ء میں جنرل راحیل شریف کے بعد پاکستانی فوج کی کمان سنبھالی۔

قومی اسمبلی کے منگل کو منعقدہ اجلاس میں مذکورہ بل کو باقاعدہ منظوری کے لیے پیش کیا گیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف، پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ [ن] کے نمائندوں نے اس بل کے حق میں ووٹ دیا۔ اس موقع پر جمعیت علمائے اسلام ف، جماعت اسلامی اور سابق فاٹا ارکان نے قومی اسمبلی کے اجلاس سے بائیکاٹ کیا جبکہ سابق فاٹا ارکان علی وزیر اور محسن داوڑ نے اس بل کی مخالفت میں ووٹ دیا۔ وزیراعظم پاکستان عمران خان نے بھی اس اجلاس میں شرکت کی جن پر قومی اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت نہ کرنے پر تنقید بھی کی جاتی ہے۔

آج کے اجلاس میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری، مسلم لیگ [ن] کے رہنما خواجہ سعد رفیق اور شاہد خاقان عباسی نے شرکت نہ کی۔ اب اس بل کو سینیٹ میں منظوری کے لیے بھیجا جائے گا اور وہاں سے منظوری کے بعد صدر پاکستان کے دستخطوں کے ساتھ یہ بل قانون کی حیثیت حاصل کر لے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے اس ایکٹ کے حوالے سےکچھ سفارشات پیش کی تھیں۔ بلاول بھٹو نے پیر چھ جنوری کو بیان دیا تھا کہ ان کی پارٹی کی جانب سے اسمبلی میں آرمی ایکٹ بل پر کچھ تجاویز جمع کرائی گئی ہیں۔ ان سفارشات میں یہ تجویز بھی شامل تھی کہ وزیراعظم قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کے آگے اس ایکٹ میں ترمیم کی وجوہات بتائیں، لیکن وزیر دفاع کی درخواست پر پیپلز پارٹی نے اپنی سفارشات واپس لے لیں۔

آخری اطلاعات آنے تک قومی اسمبلی سے منظوری کے بعد ایوان بالا [سینیٹ] میں بھی پاک آرمی ترمیمی ایکٹ بل 2020 پیش کر دیا گیا۔ چیئرمین سینیٹ نے تینوں بلز قائمہ کمیٹی برائے دفاع کے سپرد کر دئیے۔ جے یو آئی، جماعت اسلامی، پختونخوا ملی عوامی پارٹی نے بل کی مخالفت کی۔ ایوان بالا کا اجلاس کل سہ پہر تین بجے تک ملتوی کر دیا گیا۔