.

پاکستان میں چین سے پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس کے پہلے دوکیسوں کی تصدیق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان میں حکام نے چین سے پھیلنے والے مہلک کرونا وائرس کے پہلے دوکیسوں کی تصدیق کی ہے۔

وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا نے بدھ کی شب ایک ٹویٹ میں ان دونوں کیسوں کی تصدیق کی ہے اور لکھا ہے کہ دونوں مریضوں کی دیکھ بھال کی جارہی ہے اور ان کی حالت بہتر ہے۔

انھوں نے ٹویٹ میں ہم وطنوں کو مشورہ دیا ہے کہ’’افراتفری کا شکار ہونے کی کوئی ضرورت نہیں ،چیزیں کنٹرول میں ہیں۔‘‘انھوں نے جمعرات کو پاکستان اور ایران کے درمیان واقع سرحدی گذرگاہ تفتان سے واپسی پر ایک پریس کانفرنس کرنے کا اعلان کیا ہے۔

قبل ازیں بدھ کو پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آیا ہے اور صوبائی محکمہ صحت نے ایک نوجوان کے اس مہلک وائرس کے ٹیسٹ مثبت ہونے کی تصدیق کی ہے۔

صوبہ سندھ کے وزیر صحت اور بہبود آبادی کی میڈیا کوآرڈی نیٹر میران یوسف نے ایک بیان میں کہا ہے کہ کروناوائرس سے متاثرہ 22 سالہ مریض نے پڑوسی ملک ایران کا سفر کیا تھا اور یہ وہاں مہلک وائرس کا شکار ہوا تھا۔

ترجمان نے بتایا کہ یہ مریض 20 فروری کو ایران سے بذریعہ طیارہ اپنے خاندان کے ہمراہ کراچی آیا تھا۔اس کو اور اس کے خاندان کو الگ تھلگ رکھا گیا تھا۔محکمہ صحت اب ان تمام مسافروں کا طبی معائنہ کررہا ہے جنھوں نے اس نوجوان کے ساتھ ایران سے آنے والے اس طیارے میں سفر کیا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اس نوجوان میں ایران میں قیام کے وقت ہی کرونا وائرس کی علامات ظاہر ہونا شروع ہوگئی تھیں۔اس کے آج آغاخان یونیورسٹی اسپتال میں ٹیسٹ کیے گئے اور وہ مثبت آئے ہیں۔

واضح رہے کہ کرونا وائرس گذشتہ سال دسمبر میں چین کے وسطی شہر ووہان میں کھانے پینے کی اشیاء کی ایک مارکیٹ سے پھیلا تھا جہاں غیر قانونی طور پر جنگلی جانوروں کا گوشت فروخت کیا جاتا تھا۔طبی ماہرین کا خیال ہے کہ اس وائرس نے پہلے پہل چمگادڑوں میں جنم لیا تھا۔ ان سے یہ کسی اور جاندار میں منتقل ہوا اور وہاں سے یہ انسانوں تک پہنچ گیا۔

دریں اثناء عالمی ادارہ صحت نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے اب چین سے باہر روزانہ بہت زیادہ نئے کیس سامنے آرہے ہیں۔ڈبلیو ایچ او نے منگل کے روز چین میں 411 نئے کیسوں کی اطلاع دی تھی جبکہ دنیا کے دوسرے ممالک میں کرونا وائرس کے 427 نئے کیس رجسٹرڈ کیے گئے تھے۔

اب تک چین اور دنیا بھرمیں اس وائرس سے 2768 افراد مارے جاچکے ہیں اور 81 ہزار سے زیادہ افراد متاثر ہوئے ہیں۔ اس مہلک وائرس کے وبائی شکل اختیار کرنے کے بعد بہت سے ممالک نے چین کے لیے اپنی پروازیں معطل یا منسوخ کردی ہے۔