.

ریکوڈک کیس میں برٹش ورجن آئی لینڈ کی عدالت کا پاکستان کے حق میں فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ریکوڈک کیس میں برٹش ورجن آئی لینڈ کی ہائی کورٹ نے پاکستان کے حق میں فیصلہ سنادیا۔ عدالت نے پی آئی اے کے منجمد اثاثے بحال کردیے جس پر روز ویلٹ ہوٹل نیویارک اور سکرائب ہوٹل پیرس واپس پاکستان کو مل گئے۔

کمپنی نے ریکوڈک ہرجانے کے طور پر پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز انویسٹمنٹ لمیٹڈ (پی آئی اے آئی ایل) سے تعلق رکھنے والے اثاثوں بشمول نیویارک اور پیرس میں موجود ہوٹلز حاصل کرنے کے لیے کیس دائر کیا تھا۔

معاصر عزیز ڈان اخبار کی حالیہ اشاعت میں شامل رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے احاطے میں اٹارنی جنرل کے دفتر میں موجود انٹرنیشنل ڈسپیوٹ یونٹ (آئی ڈی یو) نے کہا کہ 'پاکستان نے ٹیتھیان کمپنی کی جانب سے آئی سی ایس آئی ڈی (انٹرنیشنل سینٹر فار سیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹ) ایوارڈنافذ کرنے کے لیے دائر کردہ کیس جیت لیا ہے۔

ساتھ ہی ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس سے قبل ٹیتھیان کمپنی کے حاصل کردہ تمام یکطرفہ فیصلے بھی کالعدم ہوگئے ہیں۔

خیال رہے کہ کمپنی نے ریکوڈک کیس میں 12 جولائی 2019 کو آئی سی ایس آئی ڈی کی جانب سے پاکستان کے خلاف 5 ارب 97 کروڑ ڈالر ہرجانے کے فیصلے کے نفاذ کے لیے کیس دائر کیا تھا۔

اٹارنی جنرل فار پاکستان خالد جاوید خان نے ذرائع سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'بی وی آئی ہائی کورٹ نے کچھ دیر پہلے ہی فیصلہ سنایا ہے جو پاکستان اور پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کے لیے بڑی قانونی کامیابی ہے۔

انہوں نے یہ بھی کا کہ پی آئی اے آئی ایل کے خلاف اس سے قبل جاری ہونے والے تمام فیصلے بی وی آئی ہائی کورٹ نے واپس لے لیے ہیں ساتھ ہی انہوں نے روزویلٹ ہوٹل نیویارک اور اسکرائب ہوٹل پیرس کو وصول کرنے کے لیے تعینات کردہ شخص کو بھی برطرف کردیا ہے اور قانونی کارروائی کی لاگت بھی دی جائے گی۔

دسمبر 2020 کو بی وی آئی ہائی کورٹ نے ایک یکطرفہ فیصلے کے تحت پی آئی اے آئی ایل کے اثاثوں کو منسلک کرنے کا حکم دیا تھا جس میں روزویلٹ ہوٹل مین ہٹن، نیویارک میں کمپنی کے مفادات، وسطی پیرس میں سکرائب ہوٹل کے علاوہ تیسرے فریق کے ادارے منہل اِنکارپوریٹڈ میں پی آئی اے کے 40 فیصد منجمد حصص شامل ہیں۔

بی وی آئی کورٹ نے 16 دسمبر کو جاری کردہ حکم میں ہی عبوری بنیاد پر ان اثاثوں کو وصول کرنے کا والا بھی مقرر کردیا تھا۔

انٹرنیشنل ڈسپیوٹ یونٹ کا کہنا تھا کہ بی وی آئی کورٹ نے فیصلہ دیا ہے کہ اس کے پاس اس معاملے کا فیصلہ کرنے کا دائرہ اختیار نہیں تھا اور ساتھ ہی وصول کنندہ کو بھی فوری طور پر ہٹا دیا گیا ہے۔

آئی ڈی یو کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے بھی آئی ڈی یو اور اٹارنی جنرل کے دفتر کی کوششوں کو سراہا جس نے پاکستان کے لیے یہ اہم کامیابی حاصل کرنے میں مدد کی۔

آئی ڈی یو کا کہنا تھا کہ برآں پی آئی اے کی کمپنیوں کے خلاف پرووژنل چارجنگ آرڈر بھی مکمل طور پر کالعدم قرار دے دیا گیا اور ٹیتھیان کمپنی کو حالیہ کارروائی پر آنے والی لاگت ادا کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، اس طرح روزویلٹ اور سکرائب ہوٹل چھیننے کی کوششیں ناکام ہوگئیں۔

دوسری جانب پی آئی اے نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ 'اللہ کے کرم اور تمام ہم وطنوں کی دعاؤن سے بی وی آئی میں موجود عدالت نے پی آئی اے کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے مشکل سے بنائے گئے اثاثے بحال کردیے جو کہ روزویلٹ این وائے سی اور سکرائب پیرس ہیں، پی آئی اے اور پاکستان کے لیے بڑی کامیابی، ہم اکٹھے جیت گئے'۔

خیال رہے کہ اثاثے منجمد کرنے کی اطلاعات اور بی وی آئی ہائی کورٹ کا پہلے حکم سے 23 دسمبر 2020 کو پاکستان کو آگاہ کیا گیا تھا۔

اس وقت اٹارنی جنرل نے کہا تھا کہ پ پاکستان تمام دستیاب قانونی وسائل استعمال کرتے ہوئے ان کارروائیوں کا بھرپور مقابلہ کرے گا اور حکومت نے بھی قومی اثاثوں کی حفاظت کا عزم دہرایا ہے۔

ریکوڈک تنازع

خیال رہے کہ آئی سی ایس آئی ڈی ٹریبونل میں پاکستان اور ٹیتھیان کاپر کمپنی کے درمیان یہ تنازع اس وقت زیر بحث آیا جب کمپنی نے 8 ارب 50 کرور ڈالر کا دعویٰ کیا جبکہ بلوچستان کی کان کنی اتھارٹی نے صوبے میں 2011 میں کئی ملین ڈالر کی کان کنی کی لیز دینے سے انکار کردیا تھا۔

جولائی 2019 میں آئی سی ایس آئی ڈی ٹریبونل نے آسٹریلین کمپنی کو کان کنی کی لیز دینے سے انکار پر پاکستان کو 5 ارب 97 کروڑ ڈالر ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔

جس کے فوری بعد کمپنی نے اس فیصلے کے نفاذ کے لیے کارروائی شروع کردی تھی، نومبر 2019 میں پاکستان نے اس فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے ہرجانے کی منسوخی کی درخواست کی تھی۔

رواں برس مارچ میں اٹارنی جنرل کے دفتر نے اعلان کیا تھا کہ پاکستانی حکومت ایسے مواقع تلاش کر رہی ہے جس کے تحت 5 ارب 90 کروڑ ڈالر کے جرمانے پر عملدرآمد پر حکم امتناع حاصل کیا جاسکے اور 8 نومبر 2019 کو انہوں نے 'آئی سی ایس آئی ڈی' کے 12 جولائی 2019 کے فیصلے کے خلاف درخواست دائر کی تھی۔

اس ہرجانے کی منسوخی کی درخواست کے ساتھ پاکستان نے 18 نومبر 2019 کو ہرجانے کے نفاذ کو عارضی طور پر معطل کرنے کی بھی درخواست دی تھی۔

چنانچہ پاکستان کو منسوخی کی کارروائی شروع ہونے پر عارضی حکم امتناع دے دیا گیا تھا۔

16 ستمبر 2020 کو ٹریبونل نے پاکستان کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ہرجانے کے نفاذ پر حکم امتناع کی تصدیق کی تھی۔

آئی سی ایس آئی ڈی اب بھی اس ہرجانے کے خلاف پاکستان کی اپیل پر غور کر رہی ہے جس کی آخری سماعت مئی 2021 کو ہوگی۔

ریکوڈک معاملہ تھا کیا؟

واضح رہے کہ ریکوڈک، جس کا مطلب بلوچی زبان میں 'ریت کا ٹیلہ' ہے، بلوچستان کے ضلع چاغی میں واقع ایک چھوٹا گاؤں ہے جو ایران اور افغانستان سرحد کے قریب واقع ہے۔

ریکوڈک دنیا میں سونے اور تانبے کے پانچویں بڑے ذخائر کے حوالے سے جانا جاتا ہے۔

جولائی 1993میں اُس وقت کے وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ذوالفقار علی مگسی نے ریکوڈک منصوبے کا ٹھیکہ آسٹریلوی کمپنی پی ایچ پی کو دیا تھا۔

بلوچستان کے 33 لاکھ 47 ہزار ایکڑ پر واقع اس منصوبے کا معاہدہ صرف ڈرلنگ کے لیے ہوا تھا لیکن آسٹریلوی کمپنی نے حکومت بلوچستان کو اعتماد میں لیے بغیر مزید کام کرنے کے لیے اطالوی کمپنی ٹیتھیان سے معاہدہ کرلیا تھا۔

آسٹریلوی کمپنی نے کوشش کی تھی کہ گوادر پورٹ کے ذریعے ریکوڈک کا سونا اور تانبہ کینیڈا، اٹلی اور برازیل کو فروخت کرے جس سے بلوچستان کو مجموعی آمدنی کا صرف 25 فیصد حصہ ملنا تھا۔

تاہم بلوچستان حکومت نے پی ایچ پی کی جانب سے بےقاعدگی کے بعد معاہدہ منسوخ کردیا تھا، بعد ازاں صوبائی حکومت نے 2010 میں یہ بھی فیصلہ کیا تھا کہ صوبائی حکومت اس منصوبے پرخود کام کرے گی۔

علاوہ ازیں جنوری 2013 میں اُس وقت کے چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے بلوچستان حکومت اور آسٹریلوی مائننگ کمپنی کے درمیان ریکوڈک معاہدے کو ملکی قوانین کے منافی قرار دیتے ہوئے کالعدم قرار دے دیا تھا۔

کمپنی کا نقطہ نظر

ٹیتھیان کمپنی کی ویب سائٹ پر دستیاب معلومات کے مطابق ریکوڈک کان کنی منصوبہ 3 ارب 30 کروڑ ڈالر کی لاگت سے ایک ورلڈ کلاس کاپر، گولڈ اوپن پٹ مائن تعمیر کرنا اور اسے چلانا تھا۔

کمپنی کا کہنا تھا کہ 1998 میں حکومت بلوچستان کے ساتھ ہونے والے سمجھوتے کے تحت اسے کان کنی کی لیز ملنی تھی جس کے لیے حکومت کی معمول کی شرائط تھیں۔

منصوبہ 2011 میں درخواست مسترد ہونے کے بعد رک گیا تھا اور پاکستانی حکام نے کہا تھا کہ کان کنی کی لیز حکومت نے اس لیے ختم کردی کیونکہ اسے غیر شفاف طریقے سے حاصل کیا گیا تھا۔

اس وقت تک کمپنی ریکوڈک میں 22 کروڑ ڈالر کی رقم لگا چکی تھی چنانچہ کمپنی نے عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل سے 2012 میں مدد کی درخواست کی اور ٹریبونل نے 2017 میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف فیصلہ سنایا۔

ٹریبونل نے منسوخ شدہ لیز سے ہونے والے نقصان کا تخمینہ ٹیتھیان کے کان کنی سے 56 سال میں ممکنہ طور پر حاصل ہونے والے منافع کو فرض کر کے لگایا اور لیز منسوخ کرنے پر پاکستان کو 5 ارب 97 کروڑ ڈالر کا ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔