.

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں انتخابی دنگل دو افراد کی جان لے گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان کے زیر انتظام [آزاد] کشمیر کے انتخابات کے دوران مختلف مقامات پر سیاسی کارکنوں کے درمیان تصادم کے نتیجے میں 2 افراد جاں بحق ہو گئے ہیں۔ قانون ساز اسمبلی کشمیر کی 45 نشستوں پر پولنگ کے دوران مختلف مقامات پر سیاسی جماعتوں کے درمیان تصادم بھی ہوا ہے۔

کوٹلی میں حلقہ ایل اے 12 میں پولنگ اسٹیشن میں پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں کے زبانی تلخ کلامی نے خونی تصادم کی شکل اختیار کرلی، جھگڑے کے دوران فائرنگ سے 2 افراد جاں بحق ہو گئے۔ لیپہ کے حلقہ ایل اے 33 کے پولنگ اسٹیشن نمبر 111 میں (ن) لیگ اور تحریک انصاف کے کارکنوں میں تصادم کے باعث ووٹنگ کا عمل کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا.

باغ میں حلقہ ایل اے 15 ہاڑی گہل پدر محمد علی پولنگ اسٹیشن پر پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی کے کارکن گتھم گتھا ہوگئے، دونوں جانب سے لاٹھیوں کا آزادانہ استعمال کیا گیا، جس کے نتیجے میں 10 افراد زخمی ہو گئے۔ پرتشدد کارکنوں کو منتشر کرنے کے لیے وہاں تعینات ایف سی اہلکاروں نے ہوائی فائرنگ بھی کی۔

مظفرآباد میں حلقہ ایل اے 3 کے پولنگ اسٹیشن 25 اور 26 میں سیاسی جماعتوں کے کارکنوں کے درمیان وقفے وقفے سے ہونے والی ہاتھا پائی کے باعث پولنگ کا عمل متاثر ہوا۔ پولنگ اسٹیشن میں تناؤ کو دیکھتے ہوئے پولیس کی مزید نفری تعینات کردی گئی۔

ہٹیاں بالا میں جسکول پولنگ اسٹیشن پر بھی (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے کارکن آمنے سامنے آگئے اور ایک سیاسی جماعت کی جانب سے پولنگ بند کرانے کی کوشش کی گئی، حلقہ ایل اے 27 کے کوپرا گلی پولنگ اسٹیشن میں دو گروپوں کے مابین جھگڑا ہوگیا جس پر پولنگ کا عمل کچھ دیر کے لیے روک دیا گیا۔

پشاور میں کشمیر کی قانون ساز اسمبلی کے حلقہ ایل اے 45 کے لیے قائم پولنگ اسٹیشن پر بدنظمی کی وجہ سے پولنگ روک دی گئی۔ پولیس نے پی ٹی آئی کے 2 اور آزاد امیدوار کے 6 کارکنوں کو گرفتار کر لیا۔ حالات کنٹرول کرنے کے بعد پولنگ کا عمل دوبارہ شروع کردیا گیا۔

مہاجرین کے لیے کراچی کے علاقے نارتھ ناظم آباد بلاک ایم میں قائم پولنگ اسٹیشن کا ماحول بھی کشیدہ رہا، پیپلز پارٹی اور پی ٹی آئی کارکنان وقفے وقفے سے ایک دوسرے کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔