پاکستان عالمی برادری کی توجہ افغانستان کی صورت حال پرمبذول کرانے کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کی توجہ افغانستان کی صورت حال کی جانب مبذول کرانے کے لیے مسلسل کوشاں ہے اور قریبی ہمسایہ ملک ہونے کے ناتے افغان بھائیوں کی انسانی بنیاد پرامداد کے لیے بھرپور کاوشیں بروئے کارلارہا ہے۔

انھوں نے یہ بات ہفتے روزاسلام آباد میں افغانستان کے عبوری وزیرخارجہ امیرخان متقی سے ملاقات میں کہی ہے۔انھوں نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے غیرمعمولی اجلاس کا انعقاد ان ہی کاوشوں کی ایک کڑی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ہم اس اجلاس کے ذریعے عالمی برادری کو پیغام دے رہے ہیں کہ ماضی کی غلطیوں سے سبق سیکھتے ہوئے افغانستان میں امن واستحکام کے لیے آگے بڑھیں۔افغانستان میں قومی اتحاد کی حامل حکومت کا قیام اور بنیادی انسانی حقوق بالخصوص خواتین کے حقوق کی پاسداری افغان حکومت کے مفاد میں ہے۔

انھوں نے بتایا کہ انھوں نے دورۂ کابل کے موقع پر پاکستان کی جانب سے جذبۂ خیرسگالی کے تحت 5 ارب کی امداد کا اعلان کیا تھا۔اس کے علاوہ افغانستان کو خوراک، ادویہ اور پچاس ہزار میٹرک ٹن گندم کی شکل میں انسانی امداد مہیا کرنے کے لیے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان آیندہ سال مارچ میں او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے اڑتالیسویں اجلاس کی میزبانی کوتیار ہے،یکے بعد دیگرے او آئی سی کےوزرائے خارجہ کونسل کے دواجلاسوں کی میزبانی، مسلم امہ کو درپیش مسائل کے حل کے لیے پاکستان کی سنجیدگی کامظہر ہے۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان میں 40 سال کے بعد قیام امن کی امید ہمیت کی حامل ہے،اس موقع کو ضائع نہیں کیا جاناچاہیے۔افغانستان کے معاشی طور ناکام ہونے اور دیوالا نکلنے کے سب کے لیے یکساں مضمرات کا سبب بنے گا۔

انھوں نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے مسلسل اورغیر متزلزل حمایت اوآئی سی کا شکریہ ادا کیا۔افغانستان کے نگران وزیرخارجہ امیرخان متقی نے او آئی سی کے وزرائے خارجہ کے غیرمعمولی اجلاس میں مدعو کرنے پر وزیرخارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کا شکریہ ادا کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں