پاکستان کے صوبہ پنجاب کی ہائی کورٹ کے ملتان بینچ نے قندیل بلوچ قتل کیس میں مرکزی ملزم محمد وسیم کو بری کر دیا ہے۔
ملتان میں سماعت کے دوران ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جسٹس سہیل ناصر نے راضی نامہ کی بنیاد اور گواہوں کے بیانات سے منحرف ہونے پر ملزم کو بری کیا۔ ملزم محمد وسیم کو 27 ستمبر 2019 کو ملتان کی ماڈل کورٹ نے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔
عدالت میں ملزم کی والدہ نے راضی نامہ کا بیان حلفی جمع کروایا۔
درخواست گزار کے وکیل کا کہنا تھا کہ سیشن عدالت نے راضی نامہ کو نظر انداز کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ’مدعی اور مقتولہ کے والد وفات پا چکے ہیں۔ مقدمے کے گواہان بھی ٹرائل کورٹ میں اپنے بیانات سے منحرف ہو گئے تھے۔‘
خیال رہے کہ ملزم محمد وسیم کے خلاف شوبز سے وابستہ اپنی بہن قندیل بلوچ کا گلا دبا کر غیرت کے نام پر قتل کرنے کا الزام ہے۔ ملزم محمد وسیم نے عدالت میں سزا منسوخی کی اپیل دائر کر رکھی تھی۔
قندیل بلوچ کو 2016 میں 14 اور 15 جولائی کی درمیانی رات گلا دبا کر قتل کیا گیا تھا۔ مقدمے میں ان کے دوبھائیوں محمد وسیم اور اسلم شاہین کو نامزد کیا گیا تھا۔ بعد ازاں مذہبی سکالر مفتی عبدالقوی کو بھی مقدمے میں شامل کر لیا گیا۔
ستمبر 2019 میں عدالت نے مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے ایک بھائی اسلم شاہین اور مفتی عبدالقوی سمیت پانچ ملزمان کو بری کر دیا البتہ محمد وسیم کو عمر قید کی سزا سنا دی۔
محمد وسیم نے اس جرم کا اعتراف کیا تھا اور وجہ خاندان کی شہرت کو نقصان پہنچنا بتایا تھا۔ مقدمے کے مدعی قندیل بلوچ کے والد نے اس وقت بھی عدالت میں اپنے دونوں بیٹوں کو معاف کرنے کی عرضی جمع کروائی تھی جسے عدالت نے مسترد کر دیا تھا۔