سعودی عرب اور پاکستان کی مشترکہ فوجی مشق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سعودی عرب اور پاکستان کی برّی افواج نے مشترکہ مشق شروع کردی ہے۔اس فوجی مشق کا نام ’’الصمصام ہشتم‘‘ رکھا گیا ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شاہی سعودی برّی فوج (آر ایس ایل ایف) اور پاک فوج کے درمیان فوجی مشق کا آغاز پاکستان میں انسداد دہشت گردی کےتربیتی مرکز میں ایک تقریب سے ہوا۔

پاکستان آرمی کے میجرجنرل جاوید دوست نے اس موقع پر بتایاکہ اس مشق کو کئی مراحل میں تقسیم کیا گیا ہے اور امید ہے کہ اس سے ’’شریک افواج کے درمیان عسکری مہارت‘‘ کو مربوط بنانے اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ میں مدد ملے گی‘‘۔

اطلاعات کے مطابق پاکستانی حکام کے ساتھ اسلام آباد میں سعودی سفارت خانے میں تعینات فوجی اتاشی میجرجنرل پائلٹ عوادبن عبداللہ الزہرانی اور دیگرسینئر افسروں نے بھی فوجی مشق کو ملاحظہ کیا ہے۔

سعودی عرب اور پاکستان اکثر مشترکہ فوجی تربیتی مشقوں کا اہتمام کرتے رہتے ہیں اوران میں دوطرفہ تعاون کی سرگرمیاں عام ہیں۔گذشتہ سال دسمبر میں شاہی سعودی برّی افواج اور پاکستانی فوج نے’الکاسہ 3‘ کے عنوان سے اسی طرح کی مشق کی تھی۔

اس سے قبل 2021 میں شاہی سعودی فضائیہ (آر ایس اے ایف) کے جنگی طیاروں اور عملہ کے ارکان نے پاکستان کے مصحف ایئربیس پرایئرایکسی لینس سینٹرمشق میں شرکت کی تھی۔اس فضائی مشق امریکی فضائیہ کے اہلکار بھی شریک تھے۔

حال ہی میں سعودی عرب نے مشرق اوسط میں امریکا کی قیادت میں ایک بڑی بحری مشق میں حصہ لیا تھا ۔اس میں 60 ملکوں کی بحریہ نے شرکت کی تھی۔ان میں اسرائیل کی بحری فوج بھی شامل تھی اور سعودی نے اسرائیل کے ساتھ پہلی مرتبہ اس طرح کسی بین الاقوامی فوجی مشق میں شرکت کی تھی۔ سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان سفارتی تعلقات استوار نہیں ہیں اور وہ بالمشافہہ ٹاکرے سے گریز کرتے ہیں۔

خیال کیاجاتا ہے کہ فوجی مشقوں سے کمان اورکنٹرول کی صلاحیتوں کوتقویت ملتی ہے، دوسرے ممالک سے فوجی تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے اور کسی قسم کے خطرات سے فوری نمٹنے کے لیے حربی تیاریوں کی سطح کی جانچ کی جاتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں