افغانستان وطالبان

افغانستان میں ’پاکستان کے حملوں‘میں ہلاکتوں کی تعداد 47 ہوگئی: حکام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

افغانستان کے دو مشرقی صوبوں کنڑ اور خوست کے سرحدی علاقے میں پاکستانی فوج کے ہفتے کے روزفضائی حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 47 ہوگئی ہے۔

صوبہ خوست میں اطلاعات و ثقافت کے ڈائریکٹر شبیراحمد عثمانی نے ان حملوں کے بارے میں اتوار کو فرانسیسی خبررساں ایجنسی (اے ایف پی) کو بتایا کہ صوبے میں ڈیورنڈ لائن کے قریب پاکستانی فورسز کے فضائی حملوں میں اکتالیس شہری ہلاک اور 22 زخمی ہوئے ہیں۔ان میں زیادہ تر خواتین اور بچّے ہیں۔

افغان حکومت کے ایک اورعہدہ دار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ پاکستانی ہیلی کاپٹروں نے صوبہ خوست میں ڈیورنڈ لائن کے قریب چار دیہات پر بمباری کی ہے۔دو اورافغان حکام نے خوست میں ہلاکتوں کی اس تعداد کی تصدیق کی ہے جبکہ ایک افغان عہدہ دار نے گذشتہ روز صوبہ کنڑ میں چھے افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی تھی۔

کنڑ میں ایک سرکاری عہدہ دار اوررہائشی نے بتایاکہ پاکستانی فورسز نے ہفتے کوعلی الصباح راکٹ داغے تھے جس سے ایک ہی خاندان کے افراد مارے گئے تھے۔

پاکستانی فوج نے دمِ تحریران حملوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔تاہم اتوار کے روز اسلام آباد میں وزارت خارجہ نے کابل میں طالبان حکام پر زور دیا کہ وہ افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملے کرنے والے جنگجوؤں کے خلاف’’سخت اقدامات‘‘کریں۔

گذشتہ سال طالبان کے کابل میں اقتدار پر قبضے کے بعد سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔اسلام آباد کا دعویٰ ہے کہ جنگجو گروپ افغان سرزمین سے پاکستانی علاقے میں سکیورٹی فورسز اور تنصیبات پر حملے کررہے ہیں۔

طالبان پاکستانی جنگجوؤں کو محفوظ پناہ دینے سے انکار کرتے ہیں لیکن وہ اسلام آباد کی طرف سے کی 2700 کلومیٹر (1600 میل) طویل سرحد پر باڑ لگانے کے اقدام سے بھی نالاں ہیں۔دونوں ملکوں کے درمیان سرحدی لکیر ڈیورنڈ لائن کے نام سے معروف ہے اور یہ انیسویں صدی کے آخر میں نوآبادیاتی دور میں کھینچی گئی تھی۔

واضح رہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان واقع دشوارگذار سرحدی پہاڑی علاقے ایک طویل عرصے سے کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) جیسے جنگجواوردہشت گرد گروہوں کا گڑھ رہے ہیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ ٹی ٹی پی کے بہت سے جنگجو افغانستان کے سرحدی علاقوں میں روپوش ہیں۔

افغان طالبان اور ٹی ٹی پی دونوں ممالک میں الگ الگ گروہ ہیں لیکن سرحد کے دونوں طرف آباد پٹھان قبائل کی آل اولاد نوجوان طالبان کی صفوں میں بھی شامل ہیں جبکہ بعض جنگجو ٹی ٹی پی کا حصہ ہیں اور یہی پاکستانی جنگجوملک کی سکیورٹی فورسز یا سرکاری تنصیبات پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

جب سے طالبان نے افغانستان میں اقتدارپرقبضہ کیاہے، کالعدم ٹی ٹی پی کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے اور اس نے پاکستانی افواج کے خلاف باقاعدہ حملے شروع کررکھے ہیں۔فروری میں افغانستان سے ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی فائرنگ سے پاکستان کے سرحدی علاقے میں چھے فوجی شہید ہو گئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں