دفترخارجہ کی سفیراسد مجید پردباؤڈالنے اور مراسلے کو کئی روز تک چھپانے کی تردید

سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں وضاحت ہوچکی،کسی بیرونی سازش کے ثبوت نہیں ملے:ترجمان دفترخارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے دفترخارجہ نے امریکا میں تعینات سابق سفیر اسد مجید پر دباؤڈالنے اور مراسلے کو کئی روز تک چھپانے کی تردید کی ہے اور کہا ہے کہ اس حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں۔

ترجمان دفترخارجہ عاصم افتخار نے اپنی ہفت وارنیوز بریفنگ میں بتایا کہ آئین پاکستان کے تحت جمہوری انداز میں انتقال اقتدار کا عمل مکمل ہوا ہے۔مراسلے کا بغور جائزہ لیا گیا۔اس کو کئی روز تک کو دبانے کے حوالے سے خبریں بے بنیاد ہیں، ٹیلی گرام دفترخارجہ پہنچا توقانون وضابطے کے مطابق اس کو متعلقہ حکام کے حوالے کیا گیا تھا۔

انھوں نے کہا کہ مراسلے پر قومی سلامتی کمیٹی میں بھی غور کیاگیا تھا۔سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں وضاحت ہوچکی کہ کسی بیرونی سازش کے ثبوت سامنے نہیں آئے۔سفیراسدمجید نے اپنے ٹیلی گرام کے بارے میں کمیٹی کوآگاہ کیا اورکمیٹی کو انٹیلی جنس ایجنسیوں نے بتایا کہ سازش کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔اسدمجید کے پر دباؤڈالنے کے حوالے سے خبریں محض قیاس آرائیاں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کمیٹی کے دونوں بیان ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔پریمئیر انٹیلی جنس ایجنسی نے کمیٹی کو بریفبگ دی۔اس نے تصدیق کی کہ کسی بیرونی سازش کے ثبوت نہیں ملے۔اسد مجید نے خود کمیٹی کو بریفنگ دی ان سے انکوائری نہیں کی گئی۔اب وہ بیلجیئم میں پاکستان کے نئے سفیرکی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں گے اور وہ برسلز پہنچ چکے ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان میں دہشت گرد حملوں میں پھر تیزی آئی ہے۔افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہورہی ہے۔کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی)سمیت دیگر دہشت گرد گروپ دہشت گردی میں ملوّث ہیں۔افغانستان میں دہشت گردی کی نئی لہر پر بھی پاکستان کو تشویش لاحق ہے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس ہے۔پاکستان مشکل کی اس گھڑی میں اپنے افغان بھائیوں کے ساتھ کھڑا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نئے وزیراعظم شہبازشریف نے کشمیریوں کی جائز جدوجہد کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔پاکستان اپنی سفارت کاری قومی ملکی مفاد کے مطابق جاری رکھے گا۔ترجمان نے بتایا کہ امریکی رکن کانگریس الہان عمر نے کشمیر اور لاہور کے دورے کیے۔انھوں نے مسئلہ کشمیر کو کانگریس میں اٹھانے کا وعدہ کیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ بھارت سندھ طاس معاہدے کے برعکس اقدامات سے باز رہے، مقبوضہ کشمیرمیں گذشتہ ہفتے سات بے گناہ کشمیریوں کو شہید کیا گیا، ہندتوا ذہنیت بھارت کے اندر بھی پھیل رہی ہے، پاکستان کرتارپورسے متعلق بھارتی پروپیگنڈے کو سختی سے مستردکرتا ہے،وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان بھارت کے ساتھ اچھے تعلقات چاہتا ہے لیکن خطے میں مستقل امن کے لیے مسئلہ کشمیر کا حل ناگزیرہے۔ترجمان دفترخارجہ کا کہنا تھا کہ بھارت میں اقلیتوں کے خلاف ناروا رویہ روا رکھا جا رہا ہے۔بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کا مقبوضہ کشمیر کا دورہ دھوکا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جانب سے رتلے منصوبہ کا سنگ بنیاد رکھنے کی شدید مذمت کرتا ہے۔ یہ منصوبہ عالمی قوانین اور سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ہے، بھارت اس منصوبے پر عمل درآمد سے باز رہے۔

ترجمان نے بتایاکہ وزیراعظم شہباز شریف نے حلف اٹھانے کے بعد خارجہ پالیسی کی خدوخال پرروشنی ڈالی، انھیں متعدد ممالک کے وزرائے خارجہ نے مبارک باد دی ہے جب کہ وزیراعظم نے اسلامی ممالک سمیت بھارت سے اچھے تعلقات کی خواہش کا اظہار کیا ہے۔

ان کا یہ کہنا تھا کہ وزیراعظم کی ہدایت پر خطے میں امن کے لیے کاوشیں جاری رکھیں گے۔انھوں نے بتایا کہ وزیراعظم اعلیٰ سطح کے وفد کے ہمراہ سعودی عرب جائیں گے۔اس دورے کی مزید تفصیل جلد جاری کردی جائے گی۔انھوں نے کہاکہ پاکستان مقبوضہ فلسطین میں ماہ صیام میں اسرائیلی مظالم کی شدید مذمت کرتا ہے۔عالمی برادری مقبوضہ بیت المقدس اور دوسرے فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی مظالم کا نوٹس لے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں