حکومت مخالف پروپیگنڈے کی تشہیر پرپاکستانی نیوزچینل اے آروائی کی نشریات بند

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے بڑے نجی نیوزچینل اے آر وائی کی نشریات بند کردی گئی ہیں۔یہ اقدام مبیّنہ طورپر اس چینل سے مسلسل حکومت مخالف پروپیگنڈا نشر ہونے کے بعد کیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ سروس مہیاکرنے والوں کی ایسوسی ایشن کے حکام نے پیر کے روز کہا کہ پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) نے چینل کوآف ایئرکردیا ہے۔تاہم پیمرا نے کہا ہے کہ وہ اس پیش رفت سے لاعلم ہے۔

اے آر وائی نے مبیّنہ طور پر وزیراعظم شہباز شریف کی حکومت کے خلاف سوموار کو ایک تنقیدی رپورٹ نشر کی تھی اور اس کے بعد کیبل آپریٹروں کو اس کی نشریات بند کرنے کا کہا گیا ہے۔

اے آر وائی نیوز کو سابق وزیراعظم عمران خان کی جماعت پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا حامی اورترجمان سمجھا جاتا ہے۔اس کے خبرناموں اور حالاتِ حاضرہ کے پروگراموں میں وزیراعظم شہبازشریف کی انتظامی اور معاشی پالیسیوں پراکثرتنقید کی جاتی ہے اور ایک طرح سے یہ اس کی نشریات کا خاصہ ہے۔

پیرکو چینل کے ایک پروگرام میں دو میزبانوں اورعمران خان کے ایک مشیر نے الزام لگایا کہ شہبازشریف کی حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ نواز (مسلم لیگ ن) نے پی ٹی آئی اور اس کے چیئرمین کو بدنام کرنے اور عوامی بیانیہ بنانے کے لیے ایک ’’اسٹریٹجک میڈیا سیل‘‘کو فعال کیا ہے۔ اے آر وائی نے اس سے قبل جون میں ایسے ہی الزامات لگائے تھے۔

اس کے فوراً بعد چینل کی انتظامیہ نے بتایا کہ اسے متعدد شہروں میں آف ایئرکردیا گیا ہے اورپیمرا کے حکم پر پاکستان بھر کے کیبل آپریٹرز نے اے آر وائی نیوز کو اپنے کیبل نیٹ ورک سے ہٹانا شروع کردیا ہے۔اس کے بعد اے آر وائی نیوز کے سینیرایگزیکٹو نائب صدرعماد یوسف نے کہا کہ یوٹیوب پر اے آر وائی نیوزلائیو دیکھا جاسکتا ہے۔

انٹرنیٹ سروس پرووائیڈرزایسوسی ایشن آف پاکستان (آئی ایس پاک) نے پاکستان بھرمیں چینل کی نشریات معطل کرنے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کام پیمرا کی ہدایات پر کیا گیا ہے۔

انٹرنیٹ سروس مہیا کرنے والی ایک بڑی کمپنی نیاٹیل کے شریک بانی اورآئی ایس پاک کے کنوینروہاج سراج نے ای میل کے ذریعے اپنے صارفین کو بتایا کہ ہمیں قریباً ایک گھنٹا قبل پیمرا کی جانب سے اے آر وائی نیوزکوآف ائیرکرنے کی زبانی ہدایات موصول ہوئی ہیں۔ہمیں چینل آف ایئر کرنے کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی ہے اور اب یہ کام قریباً پورے پاکستان میں کیا جا رہا ہے۔

وہاج سراج نے مزید کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ ہم سروس کب بحال کرسکیں گے۔ اگر ہمیں اپنے نیٹ ورک پرسروس بحال کرنے کے لیے پیمرا کی جانب سے کوئی نظر ثانی شدہ ہدایات ملتی ہیں تو ہم 20 سے 30 منٹ میں ان کی تعمیل کرسکیں گے۔

پیمرا کے ایک ڈائریکٹرعمیرعظیم نے مختلف ذرائع ابلاغ کے رابطہ کرنے پراس پیش رفت سے لاعلمی کا اظہار کیا۔انھوں نے کہا کہ یہ معاملہ میرے علم میں نہیں ہے۔

یہ پیش رفت فوج اوراس کے افسروں کے خلاف آن لائن مذموم مہم کے تناظرمیں سامنے آئی ہے۔گذشتہ پیر کو سیلاب زدہ علاقوں میں آپریشن کے دوران فوج کا ہیلی کاپٹرپہاڑ پرگر کر تباہ ہو گیا تھا۔ اس حادثے میں ہیلی کاپٹر میں سوار کورکمانڈر کوئٹہ لیفٹینٹ جنرل سرفرازعلی سمیت پاک فوج کے پانچ افسر شہید ہوگئے تھے۔

اس واقعے کے بعد سوشل میڈیا پرمذموم مہم میں شہیدہونے والے افسروں کو نشانہ بنایا گیا اور فوج کے خلاف بھی ہیش ٹیگ چلائے گئے تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے اس مہم کو’’خوفناک‘‘ قراردیا اور کہاکہ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ نوجوان پاکستانیوں کے ذہنوں میں زہرانڈیلاجا رہا ہے۔

فوج کے میڈیا ونگ نے بھی سوشل میڈیا کے ’’افسوس ناک‘‘ رجحانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس نے شہداء کے اہل خانہ کے ساتھ ساتھ ایک ادارے کے طورپرفوج میں بھی غم وغصہ پیدا کیا ہے۔

قبل ازیں اتوارکو وفاقی تحقیقاتی ایجنسی (ایف آئی اے) نے اس مذموم مہم میں ملوّث افراد کے خلاف تحقیقات کا اعلان کیا تھا اور اس مقصد کے لیے ایک مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں