اسلام آباد ہائی کورٹ کا وفاقی دارالحکومت میں ہفتے کو بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم

بلدیاتی انتخابات سے متعلق اسلام آباد ہائی کورٹ کا حکم سر آنکھوں پر لیکن قابل عمل نہیں: رانا ثنا اللہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن کو کل (31 دسمبر) بروز ہفتہ کو وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں شیڈول کے مطابق بلدیاتی انتخابات کرانے کا حکم دے دیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے علی نواز اعوان اور جماعت اسلامی کے میاں محمد اسلم کی بلدیاتی انتخابات ملتوی کرنے کے خلاف درخواستوں پر فیصلہ سنایا اور ہائی کورٹ نے پٹیشنز منظور کر لیں۔

جسٹس ارباب محمد طاہر نے حکم دیا الیکشن کمیشن 101 یونین کونسلز پر 31 دسمبر ہی کو الیکشن کرائے، عدالت نے وزارت داخلہ کا 19 دسمبر اور الیکشن کمیشن کا 27 دسمبر کا حکم بھی کالعدم قرار دے دیا۔

ادھر دوسری جانب میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثنا اللہ نے کہا کہ اتنے کم وقت میں اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کرانا ممکن نہیں ہے، 1000 پولنگ اسٹیشنز پر اسلام آباد پولیس کو تعینات نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا کہ پولیس کے ساتھ ہمیں رینجرز اور ایف سی کو بھی الیکشن کے لیے بلانا ہے، اتنی جلدی الیکشن کے لئے سیکیورٹی فراہم کرنا ممکن نہیں۔

وزیر داخلہ نے مزید کہا کہ اب تو الیکشن کا نیا شیڈول جاری ہو سکتا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل دائر کریں گے، ایک ہزار پولنگ اسٹینشز کے لئے کم وقت میں انتظامات نہیں ہو سکتے ۔وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن اپنے طور پر اپیل دائر کرنے کا مجاز ہے، اسلام آباد ہائیکورٹ کا فیصلہ سرپرائزنگ نہیں تھا۔

عدالت کا فیصلہ سر آنکھوں پر مگر قابل عمل ہونا چاہیئے۔ انہوں نے کہا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات 3 سے 4 ماہ میں ہو سکتے ہیں، قانون کے مطابق دوبارہ حلقہ بندیاں ہونی چاہئیں، حلقہ بندیوں اور ان کی اپیلوں کے لئے کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔رانا ثنا اللہ نے مزید کہا کہ اسلام آبادمیں ووٹرز کے اندراج پر کئی اعتراضات ہیں، اسلام آبادکے بلدیاتی الیکشن 2 سال سے تاخیر کا شکارہیں، الیکشن میں مزید 2 ماہ تاخیر سے کیا ہو جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں