نگران وزیراعلیٰ پنجاب محسن نقوی کی حلف برداری،پی ٹی آئی کااحتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب کے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی نے اتوار کی شب اپنے عہدے کا حلف اٹھالیا ہے۔لاہور میں گورنرپنجاب بلیغ الرحمٰن نے ان سے حلف لیا۔

اس سے چندے قبل الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) نے مسلم لیگ (نواز) کے نامزد امیدوار محسن نقوی کو صوبہ پنجاب کا نگران وزیراعلیٰ مقرر کیا تھا جبکہ پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) نے الیکشن کمیشن کا یہ فیصلہ مسترد کردیا ہے۔

چیف الیکشن کمشنر سکندرسلطان راجا کے زیر صدارت اجلاس میں کمیشن کے تمام ارکان نے متفقہ طورپر انھیں وزیر اعلیٰ بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اجلاس میں الیکشن کمیشن کے چاروں ارکان اور سیکرٹری الیکشن کمیشن نے شرکت کی۔

محسن نقوی ایک میڈیا ہاؤس کے مالک ہیں۔ان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ پیپلزپارٹی کے رہ نما آصف علی زرداری کے بہت قریب ہیں۔

گذشتہ ہفتے پنجاب اسمبلی تحلیل ہونے کے بعد نگراں وزیراعلیٰ کے تقرر میں غیر معمولی تاخیر ہوئی تھی جس کی وجہ سبکدوش ہونے والی صوبائی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان امیدواروں کے حوالے سے مسلسل محاذ آرائی تھی۔

سبکدوش وزیراعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے سردار احمد نواز سکھیرا اور نوید اکرم چیمہ کے نام تجویز کیے تھے جبکہ پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز نے محسن نقوی اور احد چیمہ کو نگران وزارتِ اعلیٰ کے لیے نامزد کیا تھا۔

مگر دونوں جانب سے پارلیمانی کمیٹی مقررہ وقت میں اس معاملے پر اتفاق رائے تک پہنچنے میں ناکام رہی تھی جس کے بعد یہ معاملہ الیکشن کمیشن پاکستان کو بھیج دیا گیا تھا۔

الیکشن کمیشن کی جانب سے اتوار کی شب جاری کردہ نوٹی فیکیشن کے مطابق تفصیلی غور و خوض کے بعد محسن نقوی کو فوری طور پر نگران وزیر اعلیٰ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

تحریک انصاف کا رد عمل

الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کو پاکستان تحریک انصاف نے مستردکرتے ہوئے احتجاج کرنے کا اعلان کیا ہے۔

سید محسن رضا نقوی کے تقرر کے اعلان کے فوراً بعد ہی پاکستان تحریک انصاف کے سینیر رہنما فواد چودھری نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ ’ہم ان کے بطور نگران وزیراعلیٰ تقرر کو مسترد کرتے ہیں۔‘انھوں کہا کہ ’الیکشن کمیشن نے پاکستان کو کبھی مایوس نہیں کیا۔‘

انہوں نے کہا کہ ’’ہم محسن نقوی کے تقرر کو عدالتوں میں چیلنج کریں گے لیکن سچی بات یہ ہے اداروں سے عوام کا اعتماد اٹھتا جا رہا ہے، اور عوام کو ایک فیصلہ کن تحریک کے لیے سڑکوں پر آنا ہوگا‘‘۔

’عمران خان کی قیادت میں پاکستان کے عوام پاکستان کے فیصلے خود کریں گے۔‘

پاکستان تحریک انصاف کے اتحادی اور سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الہیٰ نے بھی ایک بیان میں الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف سپریم کورٹ جانے کا عندیہ دیا ہے۔

پرویز الہیٰ نے الزام لگایا کہ ’حارث سٹیل کیس میں 35 لاکھ روپے کی پلی بارگین کرنے والے شخص سے کیسے انصاف کی توقع کی جا سکتی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’میرا قریب ترین رشتے دار کیسے نگران وزیر اعلیٰ بن سکتا ہے۔ الیکشن کمیشن کا متنازع فیصلہ ہر اصول اور ضابطے کے خلاف ہے۔ الیکشن کمیشن کے اس فیصلے کے خلاف ہم سپریم کورٹ جا رہے ہیں۔‘

سید محسن نقوی کون ہیں؟

جھنگ میں پیدا ہونے والے سید محسن رضا نقوی نے اعلیٰ تعلیم گورنمنٹ کالج یونیورسٹی (جی سی) لاہور سے حاصل کی۔ بعد میں وہ امریکا چلے گئے اور پھر بطور رپورٹر امریکی چینل سی این این سے وابستہ رہے۔

انھوں نے سابق فوجی صدر پرویزمشرف کے دور میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سی این این کے لیے رپورٹنگ بھی کی۔ اس کے بعد 2009 میں لاہور سے سٹی چینل نیوز نیٹ ورک (سٹی 42) کے نام سے ایک نجی ٹی وی چینل کا آغاز کیا۔

انھوں نے اپنا چینل چلاتے ہوئے اس کے نیٹ ورک میں اضافہ کیا اور اب ان کے پانچ نیوز چینل ہیں جن میں 41 یو کے اور 24 نیوز بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں