آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات میں تعطل؛پاکستان میں افراطِ زر کی شرح میں ہوشربااضافہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

معاشی بحران کا شکار پاکستان میں افراط زر کی شرح میں 31.5 فی صد اضافہ ہوا ہے جبکہ اسلام آباد کی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے مذاکرات کاروں کے ساتھ اہم بیل آؤٹ پیکج پربات چیت تعطل کا شکار ہے۔

فروری میں سال بہ سال افراط زر کئی دہائیوں میں سب سے زیادہ ہے، جبکہ نقل و حمل اور خراب ہونے والی خوراک کی قیمتوں میں قریباً پچاس فی صد اضافہ ہوا ہے۔

تجزیہ کارطورق فرہادی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ’30 فی صد افراط زر کی سطح ایسی ہے جہاں خاندانوں کو انتخاب اور قربانیاں دیناہوں گی‘‘۔برسوں کی مالی بدانتظامی اور سیاسی عدم استحکام نے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچادیا ہے۔توانائی کے عالمی بحران اور تباہ کن سیلاب نے معاشی تباہی کو مہمیز دی ہے اور 2022 میں ملک کا ایک تہائی حصہ سیلاب سے متاثرہوا تھا۔

جوہری ہتھیاروں سے لیس ملک کے زرمبادلہ کے ذخائرکم ہوکرصرف 3.25 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جو قریباً تین ہفتوں کی درآمدات کے لیے کافی ہیں۔

ملک کو اس معاشی دلدل سے نکالنے کے لیے وزیر اعظم شہبازشریف 2019 میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کے ساتھ طے شدہ 6.5 ارب ڈالرکے معاہدے کے تحت قرض کی اگلی قسط کی بحالی کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔

تاہم عالمی قرض دہندہ ٹیکس میں اضافے اورمختلف اشیاء پر دیے جانے والے زرتلافی میں کمی سمیت سخت اصلاحات کا مطالبہ کر رہا ہے۔یہ اقدامات اکتوبر کے آخر میں ہونے والے عام انتخابات سے قبل رائے دہندگان کی مزید ناراضی مول لینے کا سبب بن سکتے ہیں۔

گذشتہ ماہ آئی ایم ایف کے مذاکرات کار10 روزہ دورے پر پاکستان آئے تھے لیکن کوئی معاہدہ طے کیے بغیر واپس امریکا چلے گئے تھے۔پاکستانی حکومت نے بالاصرارکہا تھا کہ دونوں فریق شرائط طےکرنےکے قریب ہیں، لیکن ملک کو قرض ابھی تک نہیں ملا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ معاہدہ طے پانے کے بعد بھی افراط زر میں اضافے کا خدشہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں