پاکستان:پارلیمنٹ نے عدالتِ عظمیٰ کا صوبائی انتخابات کرانے کاحکم مسترد کردیا

قومی اسمبلی میں پنجاب میں صوبائی اسمبلی کے انتخابات کرانے کے عدالتی فیصلے کے استرداد میں قرارداد منظور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی نے جمعرات کوایک قرارداد منظورکی ہے جس میں دو صوبائی اسمبلیوں میں قبل ازوقت انتخابات کرانے کے سپریم کورٹ کے حکم کو مسترد کردیا گیاہے۔

عدالت عظمیٰ نے رواں ہفتے کے اوائل میں دو صوبوں پنجاب اور خیبرپختونخوا میں قبل از وقت انتخابات ملتوی کرنے کے حکومتی اقدام کوغیر قانونی قراردیا تھا۔ان دونوں صوبوں میں سابق وزیراعظم عمران خان نے رواں سال کے اوائل میں اپنی بلدیاتی حکومتیں تحلیل کردی تھیں۔

اسپیکرقومی اسمبلی راجاپرویزاشرف نے ایک براہ راست ٹی وی ٹیلی کاسٹ میں کہا کہ عدالتِ عظمیٰ کے تین رکنی بینچ کے فیصلے کے خلاف قرارداداکثریت سے منظورکرلی گئی ہے۔

صوبہ بلوچستان سے رکن اسمبلی خالد مگسی نے جمعرات کو قومی اسمبلی میں قرارداد پڑھ کر سنائی۔اس میں عدالت کے فیصلے کو مسترد کیا گیا ہے۔

چاراپریل کو سپریم کورٹ نے صوبہ پنجاب میں انتخابات 30 اپریل سے 8 اکتوبر تک ملتوی کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو کالعدم قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ اقدام 'غیر آئینی، قانونی دائرہ اختیار سے باہر ہے اورکوئی قانونی اثر نہیں رکھتاہے۔

بدھ کووزیراعظم شہبازشریف نے کابینہ کے اجلاس میں عدالت کے اس فیصلے کو’آئین اورقانون سے مذاق‘قراردیا تھا اورکہا تھا کہ اس پرعمل درآمد نہیں کیا جا سکتا۔

اسی نقطہ نظر کی گونج آج قومی اسمبلی میں سنائی دی اوراس نے نہ صرف سپریم کورٹ کے 4 اپریل کے فیصلے کے خلاف ایک قرارداد منظور کی ہے، بلکہ وزیراعظم پر زور دیا کہ وہ اس فیصلے پر عمل نہ کریں۔میاں شہباز شریف نے بھی مختصروقت کے لیے ایوان کی کارروائی میں شرکت کی اور قرارداد منظور ہونے کے کچھ ہی دیربعد چلے گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں