وزیراعظم شہبازشریف کا تشدد میں ملوّث افراد کی72 گھنٹے میں گرفتاری کاحکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے رواں ہفتے سابق وزیراعظم عمران خان کی گرفتاری کے بعد پرتشدد کارروائیوں میں ملوّث تمام افراد کا سراغ لگاکرانھیں 72 گھنٹے میں گرفتارکرنے کا حکم دیا ہے۔

وزیراعظم نے ہفتے کے روز ایک تقریر میں تشدد کے واقعات میں ملوّث تمام ملزموں، منصوبہ سازوں اور اکسانے والوں کی گرفتاری عمل میں لانے کی ہدایت کی ہے اور کہا ہے کہ ان کے خلاف انسداددہشت گردی کی عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔

انھوں نے کہا کہ شہریوں کے تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔انھوں نے لاہور کے سیف سٹی منصوبے کی تباہی پر افسوس کا اظہارکیا ہے اورنگران وزیراعلیٰ پنجاب کو اس ضمن میں فوری کارروائی کی ہدایت کی ہے۔

میاں شہبازشریف نے نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی سے کہاکہ تخریب کاری کی کوئی بھی کارروائی ناقابل قبول ہے اور غلط کام کے ذمہ داروں کو گرفتار کرکے انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔

انھوں نے کہا کہ ہم قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کے لیے رات کے وقت بھی انسداد دہشت گردی کی عدالتوں کی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔جرائم پیشہ عناصرکو ملک کے اندر ان کے مقام سے قطع نظرگرفتار کیا جائے گا اور ان کے خلاف قانون اور آئین کے مطابق انسداد دہشت گردی کی عدالتوں (اے ٹی سی) میں مقدمات چلائے جائیں گے۔

انھوں نے کہا کہ میں نے اے ٹی سی کی تعداد میں اضافے کی درخواست کی ہے تاکہ فوری اورمؤثر قانونی کارروائی کو یقینی بنایا جاسکے۔ہم انصاف کی فراہمی اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانے کی غرض سے تمام ضروری اقدامات کرنے کے لیے پرعزم ہیں، خواہ اس کا مطلب رات میں کارروائی کرنا ہی کیوں نہ ہو۔

انھوں نے کہا کہ ملک کے امن و استحکام میں خلل ڈالنے کی کوئی بھی کوشش قطعی طور پرناقابل قبول ہے۔یہ ایک نازک لمحہ ہے جس کے لیے غیرمتزلزل عزم کی ضرورت ہے۔ہمیں فیصلہ کن اندازمیں اوربغیر کسی تاخیرکے کام کرنا چاہیے۔ یہ انتہائی فوری معاملہ ہےاوراس میں ناکامی کوئی آپشن نہیں ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ قانون اور آئین کے تحت طے شدہ سزائیں ان لوگوں کودی جائیں گی جنھوں نے تشدد کی کارروائیوں کے منصوبے بنائے،آہنی لاٹھیاں چلائیں، ہتھیارمہیا کیے اور پولیس پر حملےکیے۔قانون ان کے خلاف کارروائی کرے گا تاکہ ایک مثال قائم کی جا سکے،جس سے یہ ظاہرہوکہ وطن عزیزاوراس کے اداروں کے خلاف کام کرنے والے دشمنوں کونتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔

گذشتہ منگل کے روز اسلام ہائی کورٹ کے احاطے سے پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان کواراضی دھوکا دہی سے لینے کے مقدمے میں گرفتارکرلیا گیا تھا۔اس کے خلاف ان کے حامیوں نے ملک بھر میں پُرتشدد احتجاج کیا تھا۔تاہم سپریم کورٹ نے جمعرات کو ان کی گرفتاری کو"غیر قانونی" قراردے دیا تھا اورجمعہ کو عدالت عالیہ نے طویل سماعت کے بعد انھیں ضمانت پررہا کرنےکا حکم دیا تھا جس کے بعدوہ لاہورروانہ ہوگئے تھے۔

عمران خان کے حامیوں نے احتجاج کے دوران میں لاہوراورراول پنڈی میں پاک فوج کی تنصیبات پر دھاوا بول دیا تھا،پشاور میں سرکاری نشریاتی ادارے ریڈیو پاکستان کی عمارت کو آگ لگا دی تھی، بسوں میں توڑ پھوڑکی، فوج کے ایک اعلیٰ عہدہ دار کے گھر میں لوٹ مارکی اور دیگراثاثوں پرحملہ کیا تھا۔

ملک بھرمیں تشدد کے ان واقعات میں آٹھ افراد ہلاک اور بیسیوں زخمی ہوئے ہیں۔اس کے بعد سے سکیورٹی اداروں نے مختلف شہروں سے قریباً دوہزار مشتبہ افراد کو بلووں کے الزام میں گرفتارکرلیاہے اور پنجاب حکومت نے لاہورمیں توڑپھوڑ اور تخریبی کارروائیوں میں ملوث افراد کی تصاویر اخبارات میں شائع کی ہیں اور شہریوں سے ان کی گرفتاری میں مدد دینے کی اپیل کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں