پی ٹی آئی کے سیکریٹری جنرل اسد عمر عہدے اور کورکمیٹی کی رُکنیت سے دستبردار

فوادچودھری بھی عمران خان کا ساتھ چھوڑ گئے، سیاست سے فی الوقت کنارہ کشی اختیار کرلی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی صفوں سے معروف سیاسی شخصیات کے انخلا یا عہدے چھوڑنے کا سلسلہ جاری ہے۔آج سابق حکمران جماعت کو دو ر بڑے دھچکے لگے ہیں۔تحریکِ انصاف کے سیکریٹری جنرل اسد عمراپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے ہیں۔انھوں نے جماعت کی کورکمیٹی کی رکنیت بھی چھوڑ دی ہے۔

انھوں نے راول پنڈی کی اڈیالا جیل سے رہائی کے بعد بدھ کی رات نیشنل پریس کلب اسلام آباد میں ایک نیوزکانفرنس میں پی ٹی آئی کا دوسرا بڑا عہدہ چھوڑنے کا اعلان کیا ہے۔البتہ انھوں نے واضح کیا کہ وہ پی ٹی آئی کو خیرباد نہیں کَہ رہے ہیں۔

اسدعمرنے کہا کہ وہ پندرہ روز تک جیل میں قید تنہائی میں رہے ہیں۔انھوں نے 9مئی کے واقعات کی مذمت کی اور کہا کہ یہ ملک کے لیے اس وجہ سے بھی خطرناک تھے اور ان میں فوج کی تنصیبات پرحملے کیے گئے تھے۔یہ ایک لمحہ فکریہ تھا۔

انھوں نے ان واقعات کی شفاف تحقیقات پر زوردیا اور کہا کہ ان میں ملوّث افراد کو سزا ملنی چاہیے لیکن بے گناہ لوگوں کی جیلوں سے رہائی ہونی چاہیے۔

ان سے پہلے سابق وفاقی وزیراطلاعات اور ایک وقت میں پارٹی کے ترجمان فواد چودھری بھی عمران خان کا ساتھ چھوڑ گئے ہیں۔انھوں نے پی ٹی آئی سے علاحدگی اختیار کرلی ہےاور سیاست سے بھی فی الوقت کنارہ کشی اختیار کرنے کا اعلان کردیا ہے۔

پی ٹی آئی کے سابق نائب صدر نے ایک ٹویٹ میں کہا کہ انھوں نے پارٹی عہدے سے استعفا دے دیا ہے۔انھوں نے کہا کہ ’’میں نے 9 مئی کے (پُرتشدد) واقعات کی واضح طور پر مذمت کی تھی۔میں نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس لیے میں نے پارٹی عہدے سے استعفا دے دیا ہے اور عمران خان سے علاحدگی اختیار کرلی ہے‘‘۔

سابق رکن قومی اسمبلی کی پیپلز پارٹی میں شمولیت

دریں اثناء پاکستان تحریک انصاف کے صوبہ خیبرپختونخوا سے تعلق رکھنے والے سابق رکن قومی اسمبلی عثمان خان ترہ کئی نے حکمران اتحاد میں شامل پیپلز پارٹی میں شمولیت کا اعلان کردیا ہے۔

انھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے رہ نما فیصل کریم کنڈی کے ساتھ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپنے گھر واپس آگئے ہیں۔عثمان ترہ کئی نے دو روز قبل 9 مئی کے واقعات پر سابق وزیراعظم عمران خان کی پارٹی کو خیرباد کَہ دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں