یونان کشتی حادثے میں جانی نقصان پر آزاد کشمیر میں یوم سوگ منانے کا فیصلہ

اس دلخراش سانحے پر اسلام آباد اور آزاد کشمیر بھر میں ریاستی پرچم سرنگوں رہے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

آزاد کشمیر کابینہ نے یونان کشتی حادثے میں جانی نقصان پر اتوار کے روز یوم سوگ منانے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق اس عظیم سانحے کے غم میں اسلام آباد اور آزاد کشمیر بھر میں ریاستی پرچم سرنگوں رہے گا۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر چوہدری انوار الحق کی زیر صدارت کابینہ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ یونان کشتی حادثے پر آج یوم سوگ منایا جائے گا۔ اسلام آباد اور آزاد کشمیربھر میں ریاستی پرچم سرنگوں رہے گا۔

وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کابینہ ارکان سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ انسانی اسمگلرز اور ٹریول ایجنٹس کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔ حکومت پاکستان سے بھی واقعہ میں ملوث ٹریول ایجنٹس کیخلاف کارروائی کی سفارش کی جائے گی۔

چوہدری انوار الحق نے کہا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کی مالی معاونت کرے گی۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے چیف سیکرٹری کو وزارت خارجہ سے رابطہ کر کے واقعہ کی تفصیلات حاصل کرنے اور جاں بحق افراد کی میتین واپس لانے کیلئے اقدامات کی ہدایت بھی کی ہے۔

قبل ازیں اسلام آباد میں پاکستانی وزارت خارجہ کی طرف سے گذشتہ روز بتایا گیا تھا کہ چند روز قبل یورپی یونین کی طرف غیر قانونی سفر کرنے والے تارکین وطن کی ایک کھچا کھچ بھری ہوئی جو کشتی سمندر میں ڈوب گئی تھی، اس میں سوار مگر زندہ بچا لیے جانے والے مسافروں میں 12 پاکستانی باشندے بھی شامل ہیں۔

سمندر سے لاشیں نکال کر بیگوں میں ڈالی جا رہی ہیں: رائیٹرز
سمندر سے لاشیں نکال کر بیگوں میں ڈالی جا رہی ہیں: رائیٹرز

وزارت خارجہ کی ترجمان ممتاز زہرہ بلوچ نے کہا کہ پاکستانی حکومت کوششیں تو کر رہی ہے تاہم ابھی تک اپنی ان کوششوں میں کامیاب نہیں ہو سکی کہ اس سانحے میں ہلاک ہونے والے پاکستانی شہریوں کی حقیقی تعداد اور ان کی شاخت کا تعین کر سکے۔

ترجمان نے کہا کہ پاکستانی حکام اس کوشش میں ہیں کہ لاپتہ یا ہلاک ہو جانے والے پاکستانی شہریوں کی ان کے اہل خانہ یا رشتہ داروں کی طرف سے مہیا کی گئی دستاویزات کی مدد اور ڈی این اے معائنوں کے ذریعے حقیقی شناخت کا تعین کیا جا سکے۔

مختلف ممالک کے تارکین وطن سے بھری ہوئی اس کشتی کے سمندر میں ڈوب جانے کا سانحہ اسی ہفتے بدھ کے روز پیش آیا تھا۔ کہا جا رہا ہے کہ اس کشتی پر 400 سے لے کر 750 تک تارکین وطن سوار تھے۔ ماہی گیری کے لیے استعمال ہونے والی یہ کشتی جنوبی یونان کے ساحلی شہر پائلوس سے قریب 80 کلومیٹر یا 50 میل دور سمندر میں ڈوب گئی تھی۔

یونانی حکام کے مطابق اس سانحے میں ہلاک ہونے والے افراد میں سے اب تک 78 کی لاشیں تلاش کی جا چکی ہیں جبکہ مجموعی طور پر 104مسافروں کو زندہ بچا لیا گیا۔

یورپ جانے کے خواہش مند افراد کی کشتی ڈوبنے کے واقعے میں زندہ بچ جانے والوں میں سے 12 پاکستانیوں کی شناخت کر لی گئی ہے۔

یونان کی سمندری حدود میں بدھ کو مسافروں سے بھری کشتی الٹنے کا واقعہ پیش آیا تھا جس میں سوار افراد کا تعلق پاکستان سمیت مختلف ملکوں سے تھا۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق یونان کے حکام نے بتایا ہے کہ تارکینِ وطن کی کشتی پر 400 سے زیادہ افراد سوار تھے۔ حادثے کے بعد 104 افراد کو بچا لیا گیا تھا جب کہ اب تک 78 کی لاشیں ملی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں