پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رُکن علی وزیر گرفتار
علی وزیر کو رواں سال فروری میں دو سال قید کے بعد رہا کیا گیا تھا
پاکستان میں سکیورٹی محکمے کے اہلکاروں نے پشتون تحفظ موومنٹ کے رہنما اور قومی اسمبلی کے رُکن علی وزیر کو گرفتار کر لیا ہے۔ یہ معلوم نہیں ہو سکا کہ علی وزیر کو کن دفعات کے تحت گرفتار کیا گیا ہے۔
پیر کو شمالی وزیرستان میں رُکن قومی اسمبلی کے ہمراہ اُن کی تحریک کے ساتھیوں کو بھی حراست میں لیا گیا۔
علی وزیر کو دسمبر 2020 میں پشاور سے گرفتار کرکے کراچی پولیس کے حوالے کیا گیا تھا اور وہ اس کے بعد سے کراچی سینٹرل جیل ہی میں قید تھے۔ علی وزیر کو رواں سال فروری میں دو سال قید کے بعد رہا کیا گیا تھا۔
وہ منظور پشتین اور دیگر کے ہمراہ گذشتہ چند روز سے پی ٹی ایم کے کارکنوں کی غیر قانونی حراست، تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کے خلاف میرانشاہ میں دھرنا دیے بیٹھے تھے۔
علی وزیر کی شمالی وزیرستان سے ایک دفعہ پھر گرفتاری قابل مذمت ہے،
— Senator Mushtaq Ahmad Khan | سینیٹر مشتاق احمد خان (@SenatorMushtaq) June 19, 2023
شمالی / جنوبی وزیرستان پہلے سے شدید بدامنی کے لہر میں ہیں۔ ایسے میں منتخب نمائندوں کے اوپر کریک ڈاؤن ان کی گرفتاری حالات اور ماحول کو مزید خراب کررہی ہے۔ وفاقی ، صوبائی حکومت ، سیکورٹی ادارے منتخب نمائندوں کی… pic.twitter.com/cYIdqH1GMK
ادھر جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق نے کہا ہے کہ علی وزیر کی شمالی وزیرستان سے ایک دفعہ پھر گرفتاری قابل مذمت ہے۔
انہوں نے کہا کہ شمالی و جنوبی وزیرستان پہلے سے شدید بدامنی کے لہر میں ہیں۔ ایسے میں منتخب نمائندوں پر کریک ڈاؤن، ان کی گرفتاری حالات اور ماحول کو مزید خراب کر رہی ہے۔
سینیٹر مشتاق نے کہا کہ وفاقی ، صوبائی حکومت ، سیکورٹی ادارے منتخب نمائندوں کی گرفتاری کے بجائے امن وامان پر توجہ دیں، منتخب نمائندوں پر اپنی ناکامی کا ملبہ گرانے کی بجائے امن وامان کی بحال کریں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ علی وزیر اور گرفتار کارکنان کو فوری طور پر رہا کیا جائے۔
علی وزیر کون ہیں؟
علی وزیر خیبر پخنونخوا میں کچھ عرصے قبل ضم ہونے والے قبائلی علاقے جنوبی وزیرستان سے آزاد حیثیت سے پہلی بار رکن قومی اسمبلی بنے ہیں۔
وہ احمد زئی وزیر قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ انہوں نے ڈیرہ اسماعیل خان کی گومل یونی ورسٹی سے تعلیم مکمل کی تھی۔ اپنے سیاسی نظریات اور اسٹیبلشمنٹ کے سیاست میں مبینہ کردار پر کھل کر اظہارِ خیال کرنے پر انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ میں علی وزیر کے والد، بھائیوں، چچا، کزن سمیت خاندان کے 18 افراد مختلف واقعات میں ہلاک ہو چکے ہیں۔