دریائے چناب میں مختلف مقامات پر درمیانے سے نچلے درجے کے سیلاب کا خطرہ

اربن فلڈنگ کے خدشہ کے باعث پنجاب میں سیلاب کے خطرے کے پیش نظر ریسکیو الرٹ جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کی رپورٹ کے مطابق پیر کو ملک کے مختلف علاقوں میں شدید بارشوں کی توقع ہے جس سے اربن فلڈنگ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

ادھر دریائے چناب اور راوی میں طغیانی کا خدشہ ہے کیونکہ بھارت کی شمالی ریاستوں میں ہونے والی مسلسل بارش نے پانی کے اخراج میں اضافہ کر دیا ہے۔

نارووال میں ریسکیو 1122 کے ترجمان حرمت علی کے مطابق دریائے راوی کی دوسری جانب کھیتوں میں 5 خواتین سمیت 36 افراد کام کر رہے تھے کہ انہوں نے پانی کی سطح بڑھتے دیکھا،ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کی اور انہیں محفوظ مقام پر منتقل کر دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ پاک-بھارت سرحد پر ریاض شہید پوسٹ پر پھنسے 5 رینجرز اہلکاروں کو بھی محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔

ریسکیو 1122 کے عملے نے توی دریا کے مقام پر کام کرنے والے 4 کسانوں کو ریسکیو کیا جو پانی کی سطح بڑھنے کے باعث پھنس گئے تھے۔

عالمی سرحد سے تقریباً 15 کلومیٹر مغرب میں واقع نارووال میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے جب کہ حکام کو دریائے راوی میں پانی کے زیادہ بہاؤ کا اندیشہ ہے۔

ضلعی انتظامیہ نے کیچمنٹ علاقوں میں موسلادھار بارش کے پیش نظر ریڈ الرٹ جاری کر دیا ہے، ریسکیو 1122 نے دریائے راوی کے کنارے واقع دھاریوال، کوٹ نیناں اور چاندی والا کے گاؤں میں تین کیمپ بھی قائم کردیے ہیں۔

ڈپٹی کمشنر نارووال محمد اشرف کے مطابق اس وقت تقریباً 75 ہزار کیوسک پانی دریا سے گزر رہا ہے لیکن پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے، انہوں نے مزید کہا کہ پانی کی سطح بلند ہونے کی وجہ سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ محمد اشرف کے مطابق سیلاب سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے افراد کے لیے 10 کیمپ لگا دیے گئے ہیں۔

سیالکوٹ میں صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے) پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل عمران قریشی اور ڈپٹی کمشنر عدنان محمود اعوان نے دریائے چناب پر ہیڈ مرالہ کا دورہ کیا اور بعد ازاں ریسکیو اور ریلیف سرگرمیوں کی تیاریوں کا جائزہ لینے کے لیے ایک اجلاس کی صدارت کی۔

دریائے ستلج میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث قصور میں بھی ریسکیو حکام کو ہائی الرٹ کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق صورتحال پر نظر رکھنے اور لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔

ریسکیو 1122 کے پی آر او اکبر علی کے مطابق دریائے ستلج کا پانی تیزی سے سرحد کے قریب گاؤں بھکی ونڈ کے قریب آرہا ہے اور دیہاتیوں کو نقل مکانی کا کہا گیا ہے۔

ڈپٹی کمشنر صفدر ورک نے بتایا کہ گجرات میں انتظامیہ کی جانب سے سیلاب کے خدشات کے اعلان کے بعد دریائے چناب کے قریب 7 دیہاتوں کے متعدد خاندانوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

مرالہ ہیڈ ورکس کے اپ اسٹریم میں تقریباً ایک لاکھ 45 ہزار وسک اور خانکی ہیڈ ورکس میں 75 ہزار کیوسک کے قریب پانی کا اخراج ریکارڈ کیا گیا ہے۔ ڈی سی صفدر ورک اور دیگر حکام نے دریائے چناب کے کنارے واقع دیہات بالخصوص گجرات کے قریبی علاقوں کی صورتحال کا بھی جائزہ لیا۔

دریا کے کنارے کے علاقوں کا معائنہ کرنے کے بعد ڈپٹی کمشنر صفدر ورک نے میڈیا کو بتایا کہ ممکنہ سیلاب کے پیش نظر خاندانوں کو نکالا جا رہا ہے، انتظامیہ نے صورتحال سے نمٹنے کے لیے سرکاری عمارتوں میں کم از کم 16 کیمپ قائم کردیے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کی وفاقی وزیر شیری رحمٰن نے بھی اپنے ٹوئٹر پیغام میں ملک کے مختلف حصوں میں گرج چمک کے ساتھ بارش، اربن فلڈنگ، لینڈ سلائیڈنگ اور دریائے چناب، راوی اور ستلج میں درمیانے سے اونچے درجے کے سیلاب کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔

شیری رحمٰن نے مزید بتایا کہ 25 جون سے اب تک بارشوں کے مختلف واقعات میں 68 اموات اور 79 مکانات کو نقصان پہنچا ہے۔

حالیہ بارشوں کے باعث یہ صورت حال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب پاکستان پہلے ہی گزشتہ موسم گرما میں آنے والے سیلاب کے اثرات سے باہر نہیں آیا ہے، جس سے 30 لاکھ سے زائد افراد متاثر اور 1700 سے زائد اموات ہوئی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں