آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 3ارب ڈالر قرض کی منظوری کے ساتھ ہی دوسرے جائزے کے لیے شرائط پیش کر دیں اور ریئل اسٹیٹ اور زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنے کا پلان مانگ لیا۔
آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس پراپرٹی اور زرعی شعبے سے محصولات بڑھانے کی صلاحیت موجود ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے کہا ہے کہ پراپرٹی اور زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کر کے محصولات میں اضافہ کیا جائے۔
ذرائع کا کہنا ہے ایف بی آر کا پلان آئی ایم ایف نے منظور کر لیا تو منی بجٹ آسکتا ہے تاہم پراپرٹی سیکٹر اور زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنے کا فیصلہ نئی حکومت کو کرنا ہوگا، ذرائع ایف بی آر کے مطابق پراپرٹی اور زرعی شعبے پر ٹیکس عائد کرنے کے لیے عالمی بینک سے معاونت لی جائے گی۔
-
آئی ایم ایف معاہدے کی منظوری کے ثمرات، روپیہ ڈالر کے مقابلے میں مضبوط
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ [آئی ایم ایف] کے ایگزیکٹو بورڈ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ ...
پاكستان -
آئی ایم ایف بورڈ نے پاکستان کے 3 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پروگرام کی منظوری دے دی
بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے بورڈ نے بدھ کے روز پاکستان کے لیے 3 ارب ...
پاكستان -
پاکستان آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکج کی منظوری کے لیے پُرامید
پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس امید کااظہار کیا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی ...
پاكستان