وزیراعظم شہبازشریف کا صدر کو قومی اسمبلی کی تحلیل کا مشورہ تیار،آخری اجلاس سے خطاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ وہ بدھ کی رات دیر گئے صدر کو قومی اسمبلی تحلیل کرنے کا مشورہ دیں گے، جس سے ملک میں نئے پارلیمانی انتخابات کی راہ ہموار ہوگی۔

پارلیمان کے ایوان زیریں قومی اسمبلی کی پانچ سالہ مدت 12 اگست کو ختم ہونے والی ہے لیکن اس اقدام سے اسے تین دن قبل تحلیل کر دیا جائے گا۔وزیراعظم نے قومی اسمبلی سے اپنے آخری خطاب میں کہا کہ ’’میں آج رات صدر کو پارلیمنٹ تحلیل کرنے کا مشورہ دوں گا‘‘۔

شہبازشریف کی اس سفارش کی صدر عارف علوی سے توثیق ضروری ہے۔اس کے بعد نگران حکومت تشکیل پائے گی اور اس کی نگرانی میں 90 دن کے اندرآیندہ عام انتخابات ہوں گے۔تاہم پولنگ میں کئی ماہ کی تاخیر ہوسکتی ہے کیونکہ الیکشن کمیشن نئی مردم شماری کی بنیاد پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے سیکڑوں حلقوں کی دوبارہ تشکیل کا عمل شروع کرنے والا ہے۔

شہبازشریف نے قومی اسمبلی میں اپنی الوداعی تقریر کے آغازمیں کہا کہ وہ 11 اپریل 2022ء کو وزیر اعظم منتخب ہوئے تھے۔انھوں نے اعتماد کا اظہار کرنے پر ایوان کے دونوں اطراف بیٹھے قانون سازوں کا شکریہ ادا کیا۔

انھوں نے کہاکہ ان کی حکومت نے اپنی 16 ماہ کی مختصر مدت کے دوران میں متعدد چیلنجوں اور مشکلات کا سامنا کیا۔ ہمیں پچھلی حکومت کی ناکامی اور غیر ذمے داریوں کا بوجھ اٹھانا پڑا۔اس کے بعدانھوں نے پچھلی حکومت کی ناکامیوں کی تاریک تصویر پیش کی۔

سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم نے کہا کہ ان کی حکومت نے ’’کسی بھی سیاسی حریف کو جیل بھیجا اور نہ ہی انھیں غیر منصفانہ طور پر پریشان کیا۔ یہ ہمارا عمل کبھی نہیں تھا‘‘۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ اگر کسی پارٹی کے رہ نما کو جیل میں ڈال دیا گیا ہے تو ہم اس سے خوش نہیں ہیں۔اور اگر کچھ لوگوں نے [سزا کا جشن منانے کے لیے] مٹھائیاں تقسیم کی ہیں، تو یہ صحیح نہیں۔یہ اچھی روایت نہیں ہے۔اس کے ساتھ ہی انھوں نے 9 مئی کے واقعات کی بھی مذمت کی جب بدعنوانی کے ایک کیس میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے عمران خان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ مظاہروں کے دوران میں فوجی تنصیبات سمیت متعدد املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔

وزیراعظم نے مسلح افواج اور جوانوں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ 9 مئی کو یوم سیاہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ یہ فوج، ریاست اورپاک فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر کے خلاف بغاوت تھی۔

انھوں نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں دی جانے والی قربانیوں کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ’’آٹھ ہزار پاکستانی اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے اور ... دنیا ان عظیم قربانیوں کو تسلیم کرتی ہے اور ہمیشہ ہماری اور ہماری فوج کی قربانیوں کی تعریف کے الفاظ استعمال کرتی ہے‘‘۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں