پاکستان جنیوا میں امریکہ-ایران امن معاہدے کی تقریب کی میزبانی کرے گا: شہباز شریف

تقریب جمعے کو ہو گی، شہباز شریف کی جنرل عاصم منیر کے "غیر معمولی سفارتی کردار" کی تعریف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

پاکستان جنیوا میں امریکہ-ایران امن معاہدے کے موقع پر ایک تقریب کی میزبانی کرے گا، وزیرِ اعظم شہباز شریف نے پارلیمنٹ کو بتایا اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو یہ تنازعہ ختم کرنے کی کوششوں میں "غیر معمولی کردار" ادا کرنے کا سہرا دیا جو عالمی معیشت کو غیر مستحکم کرنے کا باعث بنا ہے۔

"دنیا ایک تاریخی سنگِ میل تک پہنچ گئی ہے کیونکہ امریکہ اور ایران نے لبنان سمیت جنگ کے مستقل خاتمے پر اتفاق کیا ہے،" شریف نے پیر کو ایک تقریر میں قانون سازوں سے کہا جس میں انہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا شکریہ بھی ادا کیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ تقریب جمعہ کو ہو گی۔

فوجی سربراہ جنرل عاصم منیر نے کس طرح چوبیس گھنٹے کام کیا اور مذاکرات کے دوران "کبھی امید کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا،" یہ بتاتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ انہوں نے قیامِ امن کے لیے عاصم منیر کی "غیر معمولی کوششوں" کا ذاتی طور پر مشاہدہ کیا۔ انہوں نے وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار اور وزیرِ داخلہ محسن نقوی کی ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتوں کی بھی تعریف کی۔ شہباز شریف نے قانون سازوں سے ایران کے سفیر کا استقبال کرنے کے لیے کہا جو تقریر کے دوران پارلیمنٹ میں موجود تھے۔

جیسا کہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے نتیجے میں تیل اور کھاد سمیت اہم اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کے بعد تنازعہ سے عالمی اقتصادی سست روی کا خدشہ پیدا ہو گیا تھا تو یہ تبصرے واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک اہم ثالث کے طور پر پاکستان کے ظہور پر روشنی ڈالتے ہیں۔

اسلام آباد امریکہ اور ایران کے درمیان ایک پل کا کردار ادا کرنے کے لیے کوشاں ہے اور اس سلسلے میں جنرل عاصم منیر نے خاصا نمایاں سفارتی کردار ادا کیا ہے جنہیں وسیع پیمانے پر کئی عشروں میں پاکستان کے طاقتور ترین آرمی چیف کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔

اس بحران کو حل کرنے میں مدد کے لیے پاکستان کے پاس ایک مضبوط اقتصادی محرک بھی ہے۔ ملک کو توانائی کی شدید قلت کا خطرہ درپیش ہے کیونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے زیادہ تر جہاز رانی کی آمدورفت محدود ہو گئی ہے جو تیل اور گیس کی عالمی رسد کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں