پاکستانی ایلچی اور او آئی سی کے سربراہ کے درمیان اسلامو فوبیا پر تبادلہ خیال

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

جدہ میں پاکستانی قونصل خانے نے کہا کہ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) میں پاکستان کے مستقل نمائندہ سفیر سید محمد فواد شیر نے منگل کو او آئی سی کے سیکرٹری جنرل حسین ابراہیم طہٰ سے او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ جدہ میں ملاقات کی جہاں دونوں شخصیات نے اسلاموفوبیا اور مسلم دنیا کو درپیش مسائل کے ایک وسیع سلسلے پر تبادلہ خیال کیا۔

یہ پیشرفت 21 ستمبر کو او آئی سی کے سالانہ رابطہ اجلاس سے کچھ دن پہلے سامنے آئی ہے جو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) کے 78ویں اجلاس کے موقع پر منعقد ہوگا۔

سالانہ اجلاس میں او آئی سی کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ شرکت کریں گے اور اس میں جموں و کشمیر پر او آئی سی کے رابطہ گروپ کے اجلاس سمیت دیگر تقریبات بھی شامل ہوں گی۔

پاکستانی قونصل خانے نے ایک بیان میں کہا، "سفیر اور سیکرٹری جنرل نے آئندہ او آئی سی کے سالانہ رابطہ اجلاس اور اسلامی سربراہی اجلاس کے دوران بحث کے لیے پیش کردہ امور پر تبادلہ خیال کیا جن میں دیگر امور کے علاوہ جموں و کشمیر کا تنازعہ، فلسطین، افغانستان، قرآن پاک کی بے حرمتی کے اسلاموفوبیا واقعات اور کامسٹیک اسلام آباد (سائنسی اور تکنیکی تعاون پر او آئی سی کی وزارتی قائمہ کمیٹی) شامل ہیں۔ سفیر فواد شیر نے نوٹ کیا کہ پاکستان نے ایک مضبوط پوزیشن برقرار رکھی ہے اور روایتی طور پر تمام اہم معاملات پر او آئی سی کے ردِعمل کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کیا ہے۔ اسلامو فوبیا اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے بار بار ہونے والے واقعات پر انہوں نے پاکستان کی جانب سے ان قابلِ کراہت واقعات کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔"

پاکستانی ایلچی نے جموں و کشمیر مقصد کے لیے او آئی سی کی غیر متزلزل حمایت پر سیکرٹری جنرل طہٰ کا شکریہ ادا کیا اور جموں و کشمیر پر او آئی سی کے ایکشن پلان پر مکمل عمل درآمد پر زور دیا جسے اسلام آباد میں وزرائے خارجہ کی کونسل (سی ایف ایم) کے 48ویں اجلاس میں منظور کیا گیا تھا۔

گذشتہ سال مارچ میں پاکستانی دارالحکومت میں منعقدہ او آئی سی کے سی ایف ایم کے 48ویں اجلاس میں شریک ممالک نے وسیع مسائل پر تبادلہ خیال کیا اور اسلام آباد اعلامیہ سمیت 140 قراردادیں منظور کیں۔

اعلامیے میں او آئی سی کے رکن ممالک کی اپنے مشترکہ مفادات کو فروغ دینے اور ان کا تحفظ کرنے، فلسطین اور کشمیر کے مسائل جیسے "جائز مقاصد" کی حمایت، غیر او آئی سی ممالک میں مسلم اقلیتوں کے حقوق اور مفادات کو برقرار رکھنے اور مشترکہ وژن پر عمل کرنے اور مسلم دنیا کے اندر انضمام اور وسیع سماجی، اقتصادی، سائنسی اور تکنیکی ترقی کے لیے ایک مشترکہ وژن اپنانے کی خواہش کو نمایاں کیا گیا۔

1947 میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد سے مسلم اکثریتی ہمالیائی خطہ پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تنازعات کا شکار رہا ہے۔ دونوں ہمسایہ ممالک حکومت ہمالیائی علاقے کے کچھ حصوں پر لیکن دعویٰ مکمل حصے پر کرتے ہیں اور اس متنازعہ علاقہ پر تین میں سے دو جنگیں لڑ چکے ہیں۔

پاکستانی قونصل خانے کے مطابق جدہ میں منگل کے اجلاس کے دوران او آئی سی کے سیکرٹری جنرل نے او آئی سی کے ساتھ پاکستان کی مضبوط مشغولیت اور مسلم دنیا کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں اس کی مؤثر شرکت کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ امت کے لیے اجتماعی تشویش کے معاملات پر او آئی سی پاکستان کے تعاون کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔

اقوام متحدہ کے بعد او آئی سی دنیا کی دوسری بڑی بین الحکومتی تنظیم ہے۔ یہ چار براعظموں میں پھیلے ہوئے 57 مسلم رکن ممالک پر مشتمل ہے۔ اسے دنیا بھر میں مسلم ممالک کی اجتماعی آواز سمجھا جاتا ہے اور اس کا مقصد رکن ممالک کے مفادات کو فروغ دینا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں