پاکستان دسمبر تک مصنوعی ذہانت کی اولین پالیسی کو حتمی شکل دے دے گا: وزیر

پالیسی کی تشکیل کےلیے متعلقہ ماہرین پر مشتمل کیمٹی کا قیام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پاکستان کے عبوری وزیر برائے آئی ٹی عمر سیف نے منگل کو کہا کہ ان کی ٹیم نے مصنوعی ذہانت کی قومی پالیسی کا مسودہ تیار کر لیا ہے اور اسے دسمبر تک حتمی شکل دینے کے لیے فی الحال متعلقہ فریقین سے مشاورت کر رہے ہیں۔

مصنوعی ذہانت جسے اکثر مختصراً اے آئی (آرٹیفیشل اینٹیلیجنس) کہا جاتا ہے، سے مراد کمپیوٹر سسٹمز کی ترقی ہے جو ایسے کام انجام دے سکیں جن کے لیے عموماً انسانی ذہانت درکار ہوتی ہے۔ ان کاموں میں ڈیٹا سے سیکھنا، پیٹرن کو پہچاننا، فیصلے کرنا اور مسائل کو حل کرنا شامل ہے۔ اے آئی کا مقصد ایسی مشینیں بنانا ہے جو انسانوں کی طرح سوچنے اور فیصلہ سازی کے عمل کی نقل کر سکیں۔

اب چونکہ یہ ٹیکنالوجی زیادہ آسانی سے قابل رسائی ہے تو دنیا بھر میں حکومتیں اور نجی شعبے روز مرہ کے کام انجام دیتے ہوئے اس کا فائدہ اٹھانے لگے ہیں۔ پاکستان کی وزارتِ منصوبہ بندی نے بھی اپریل میں تسلیم کیا کہ مختلف سرکاری شعبوں میں اے آئی کی شمولیت بہتر فیصلہ سازی کے عمل، ذاتی بنائے گئے طبی علاج، اور سیکھنے کے بہتر تجربات اور حل کا باعث بنے گی جو پہلے ناقابل حصول تھے۔

وزیرِ اطلاعات نے ایک مختصر گفتگو میں عرب نیوز کو بتایا، "اس پالیسی کے بہت دور رس نتائج ہیں۔ ہم نے اسے عوامی مشاورت کے لیے رکھا ہے۔ ایک مسودہ ہے جس نے باہر کے ساتھ ساتھ اندرونِ ملک سے بھی عوامی تبصرے حاصل کرنے میں ہماری مدد کی۔ ہمیں لوگوں کو پالیسی کے مطابق مہارتیں حاصل کرنے کی تربیت دینے کی ضرورت ہے کیونکہ یہ کافی قیمتی ہو سکتی ہیں۔"

"میرا مقصد دسمبر تک اس پالیسی کو حتمی شکل دینا اور حکومت کو مطلع کرنا ہے۔" انہوں نے بات کو جاری رکھا۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی وزارت کے ترجمان سید جنید امام نے بھی عرب نیوز کو بتایا کہ ملک کی باضابطہ مصنوعی ذہانت پالیسی کو تمام متعلقین سے مشاورت کے بعد حتمی شکل دی جائے گی، اس سے پہلے کہ اسے منظوری کے لیے وفاقی کابینہ کو بھیجا جائے۔

انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا، "یہ چار اہم نکات پر مبنی ہے: مصنوعی ذہانت کو آگاہی اور تیاری کے ذریعے فعال کرنا، اس کی مارکیٹ کو قابل بنانا، ایک ترقی پسند اور قابلِ اعتماد ماحول کی تعمیر، اور اس کی تبدیلی اور ارتقا۔"

وزارتِ اطلاعات نے ایک حالیہ نوٹیفکیشن میں کہا ہے کہ وہ "ایک پالیسی کمیٹی تشکیل دے رہی ہے جو پالیسی سے متعلق مشاورت کے عمل کی قیادت کرے گی اور مسودے کو حتمی شکل دے گی۔" انہوں نے مزید کہا، کمیٹی کے اراکین میں صنعت، تعلیم اور حکومت کے ماہرین ہوں گے۔

پالیسی مسودے کی ایک کاپی عرب نیوز نے دیکھی جس کے مطابق "مصنوعی ذہانت کی قومی پالیسی مواقع کی منصفانہ تقسیم اور اس کے ذمہ دارانہ استعمال پر توجہ مرکوز کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے جو شواہد پر مبنی اور ہدف آفریں، صارف پر مرکوز اور مستقبل آفریں، معروضی اور وسیع تر جیسے وضاحتی اوصاف کی حامل ہے۔"

پالیسی مسودے میں یہ بھی بتایا گیا کہ مصنوعی ذہانت کے شعبے میں بہترین طریقوں اور مہارت کے اشتراک کے لیے پاکستان دوسرے ممالک کے ساتھ کیسے تعاون کرے گا۔

بیان میں کہا گیا، " پالیسی میں ایک مصنوعی ذہانت کے ریگولیٹری ڈائریکٹوریٹ کے قیام کی تجویز پیش کی گئی ہے جو اس کے اخلاقی اور ذمہ دارانہ استعمال کو یقینی بنائے۔"

پالیسی مسودے میں ملازمتوں کے ممکنہ خاتمے پر بھی توجہ دی گئی جو نئی ٹیکنالوجی کے عالمی پھیلاؤ کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔

مسودے میں کہا گیا، "اے آئی کی تحقیق اور ترقی میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرکے یہ معاشی ترقی کے فروغ میں مدد کر سکتی ہے جو نئی ملازمتوں اور صنعتوں کے قیام کے ساتھ ساتھ بہتر پیداواری صلاحیت اور کارکردگی کا باعث بن سکتا ہے۔"

اس میں مزید کہا گیا ہے کہ عالمی سطح پر مصنوعی ذہانت کے اثرات کی بنا پر پاکستانی حکومت نے یہ تصور قائم کیا کہ انسانی ذہانت کو سراہا جائے اور اے آئی کے منصفانہ، ذمہ دارانہ اور شفاف استعمال کے لیے ذہانت کے ایک ہائبرڈ انٹیلی جنس ماحولیاتی نظام کی حوصلہ افزائی کی جائے اور یوں مصنوعی ذہانت کو اپنایا جائے۔

مقبول خبریں اہم خبریں