پاکستانی الخدمت نے غزہ کے لیے ایک ارب روپے سے زائد امدادی رقم جمع کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ایک پاکستانی خیراتی ادارے نے غزہ میں مقیم لوگوں کے لیے امدادی اشیاء بشمول ادویات اور ڈبہ بند خوراک بھیجنے کے لیے دو ہفتوں کے دوران ایک ارب روپے سے زائد یعنی 3.62 ملین ڈالر جمع کر لئے ہیں۔

سات اکتوبر سے اسرائیل نے پہلے فضائی اور اب زمینی حملوں کے ساتھ غزہ کی ناکہ بندی کر رکھی ہے اور عالمی رہنماؤں کی طرف سے مسلسل مطالبے کے باوجود فلسطینی شہریوں کو خوراک، ادویات اور امدادی اشیاء تک رسائی کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔ اس خون ریز یکطرفہ جنگ میں خواتین اور بچوں سمیت 8,400 فلسطینی اسرائیلی جنگی جرائم کا نشانہ بن چکے ہیں۔

غزہ کے رہائشیوں کی مشکلات کم کرنے کیلئے پاکستان میں الخدمت فاؤنڈیشن امدادی سامان بھیجنے کے لیے ایک مہم چلا رہی ہے۔ فاؤنڈیشن کے نائب صدر عبدالشکور نے ہفتے کے روز عرب نیوز کو بتایا ہم نے غزہ کے لوگوں کو امدادی اشیاء فراہم کرنے کے لیے دو ہفتوں کے اندر پاکستانیوں سے ایک ارب روپے اکٹھے کیے ہیں۔انہوں نے کہا کہ لوگ فلسطینیوں کی مدد کیلئے دل کھول کر عطیات دے رہے ہیں اور ہمارے فنڈز روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن پانچ دیگر بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی مدد سے غزہ کے لوگوں تک پکا ہوا کھانا، ادویات اور دیگر امدادی سامان بھیجنے کا اہتمام کر رہی ہے، جن میں تین ترک خیراتی ادارے بھی شامل ہیں۔ ان تنظیموں کے غزہ میں دفاتر، گودام اور افرادی قوت موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ رسائی نہ ہونے کے باعث پاکستانی تنظیمیں فلسطینیوں تک براہ راست امداد نہیں پہنچا سکتیں۔

واضح رہے کہ پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات نہیں ہیں اور وہ کئی دہائیوں سے فلسطینیوں کے لیے ایک آزاد ریاست کا مطالبہ کر رہا ہے۔ ملک کی طرف سے اپنے شہریوں کو فراہم کردہ پاسپورٹ پر واضح طور پرلکھا ہے کہ یہ دستاویز اسرائیل کا سفر کرنے کے لیے استعمال نہیں ہو سکتی۔

الخدمت فاؤنڈیشن کے نائب صدر عبدالشکور نے نےکہا کہ انکا رفاہی دارہ اب تک امدادی اشیاء بشمول 400,000 ڈالر کی ادویات امداد کے طور پر فراہم کر چکا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے 45 ملین روپے ($162,527) مالیت کی ادویات اور ڈبہ بند خوراک بھی ہلال احمر کو اپنے نیٹ ورک کے ذریعے غزہ میں پہنچانے کے لیے حوالے کی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ ادویات اور کھانے پینے کی اشیاء ابھی مصر میں پھنسی ہوئی ہیں کیونکہ اسرائیل امداد کو غزہ میں آنے کی انتہائی محدود پیمانے پر اجازت دے رہا ہے۔جو کہ ضروریات کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔

انسانی بنیادوں پر جاری اپنے امدادی آپریشنز کے اگلے مرحلے کے بارے سوال پر انہوں نے کہا کہ فاؤنڈیشن نے ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکس کو غزہ لے جانے اور وہاں کے رہائشیوں کا علاج کرنے کے لیے رجسٹر کرنا شروع کر دیا ہے. اس سلسلے میں اب تک 1500 سے زیادہ ڈاکٹر اور پیرا میڈیکس علاج کے لیے غزہ جانے کے لیے تیار ہیں۔ہم قاہرہ میں اپنے سفارتی مشن کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں اور جیسے ہی ہمیں ان کے ویزوں کے لیے گرین سگنل ملے گا ہم ڈاکٹروں، سرجنوں اور پیرامیڈیکس کی ٹیمیں غزہ بھیجیں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگر اس کی اجازت ممکن نہ ہوئی تو برطانیہ، آسٹریلیا اور دیگر مغربی ممالک سے پاکستانی ڈاکٹروں کو غزہ بھیجنے کا منصوبہ بھی ترتیب دیا جا رہا ہے۔ جنہیں اس حوالے سے ویزے کے حصول میں آسانی ہوگی۔بیرون ملک مقیم ڈاکٹروں کی طرف سے پہلے ہی غزہ جانے کے لیے رضامندی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔شکور نے کہا کہ ہم اقوام متحدہ کی منظور شدہ کچھ تنظیموں کے ساتھ بھی کام کر رہے ہیں تاکہ ان کی مدد سے غزہ میں امداد اور کارکن پہنچا سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں