برطانوی کنسورشیم پی آئی اے کی نجکاری کے لیے مالیاتی مشیر مقرر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کئی سالوں سے فضائی سفر کی سہولیات فراہم کرنے میں مشکلات کی شکار قومی ائیر لائن، پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (پی آئی اے) کی نجکاری میں مالی معاملات میں معاونت کیلئے پرائیویٹائزیشن کمیشن نے ایک برطانوی کنسورشیم کی تقرری کی توثیق کردی ہے۔

حالیہ ہفتوں میں قومی پرچم بردار فضائی کمپنی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوگیا ہے جس کے باعث اسکی سینکڑوں ملکی اور بین الاقوامی پروازیں منسوخ کرنی پڑیں۔ اس کی بڑی وجہ مالی بحران کے نتیجہ میں پاکستان اسٹیٹ آئل کے واجبات کی عدم ادائیگی کے باعث فضائی ایندھن کی فراہمی معطل ہونا ہے۔ ایسے میں قومی ائیر لائن کیلئے اپنا آپریشن جاری رکھنا مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔

گزشتہ دنوں وفاقی وزیر برائے نجکاری فواد حسن فواد کی زیر صدارت نجکاری بورڈ کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے ایک سرکاری بیان میں کہا گیا ہے پی آئی اے کارپوریشن کی نجکاری کے لیے ارنسٹ اینڈ ینگ کی قیادت میں ایک کنسورشیم کو کامیاب بولی دہندہ کے طور پر مالیاتی مشیر مقرر کرنے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ مالیاتی مشیر کے انتخاب کا طریقہ کار شفافیت سے انجام دیا گیا۔

واضح رہے کہ مالی بحران کی شکار پی آئی اے کو ماضی میں منافع بخش ادارے بنانے کیلئے کئی کوششیں کی جاچکی ہے اور متعدد مالیاتی پیکج بھی فضائی کمپنی کو سہارا دینے میں ناکام رہی ہے۔

تاہم ملک کی موجودہ عبوری انتظامیہ نے اس سال اگست میں اسے ایک کاروباری ادارے میں تبدیل کرنے کی قابل عمل حکمت عملی اپنانے کے بغیر کسی بھی مدد کی کوشش شروع کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

بالآخر گزشتہ ماہ حکومت نے فضائی کمپنی کیلئے 8 ارب روپے ($28.8 ملین) کی مالی معاونت کی منظوری دی تھی جس سے ایئرلائن انتظامیہ کو امید ہے کہ اس کے فلائٹ آپریشن بتدریج معمول پر آجائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں