امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ غزہ میں ظلم پر نام نہاد بڑی سیاسی پارٹیوں کی قیادت خاموش، امریکا کے خوف سے فلسطین کا نام نہیں لیتے، بلوچستان اور سندھ کو فتح کرنے کے دعوے ہو رہے ہیں، یہ حکمران اپنے عوام اور شہروں کو ہی زیر کر سکتے ہیں، ان میں جارح اور ظالم کے خلاف بولنے کی جرات نہیں، قوم عہد کرے آیندہ انتخابات میں امریکی ایجنٹوں کو پاکستان فتح نہیں کرنے دیں گے۔
’’استعمار جماعت اسلامی سے خائف، ہر صورت اس کا راستہ روکنا چاہتا ہے، قوم حقیقی تبدیلی، فلسطین و کشمیر کی آزادی اور ملک میں قرآن و سنت کی بالادستی قائم کرنے کے لیے الیکشن میں جماعت اسلامی کے حق میں فیصلہ دے۔ آیندہ برس 76ممالک کے انتخابات ہوں گے، جن میں چار ارب ووٹرز حق رائے دہی استعمال کریں گے، کہیں بھی دھاندلی کے الزامات نہیں لگائے جاتے، شرم کی بات ہے کہ ہمارے ہاں ہر دفعہ انتخابات چوری ہوتے ہیں۔ ‘‘
ان خیالات کا اظہارانہوں نے غزہ مارچ سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ سراج الحق نے اسرائیلی سفاکیت پر مسلمان حکمرانوں کی خاموشی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ اگر یہ معصوم بچوں اور خواتین کے قتل عام پر اہل فلسطین کی مدد نہیں کر سکتے، تو کم از کم عوام کے لیے ہی راستہ کھول دیں، امت کا ہر فرد اور وہ خود سب سے آگے بڑھ کر بہنوں، بیٹیوں کے محافظ بنیں گے۔ انھوں نے کہا کہ انھوں نے اہل فلسطین کی مدد کے لیے مشترکہ لائحہ عمل تشکیل دینے کے مقصد کے تحت ایران، ترکی اور قطر کا دورہ کیا۔
دوحہ میں پتا چلا کہ کئی ممالک کے سفارت کار اظہار یکجہتی کے لیے حماس کی قیادت سے ملے، مگر پاکستانی سفیر کو جرأت نہیں ہوئی۔ او آئی سی سربراہی کانفرنس میں غزہ کی مدد کے لیے عملی اقدامات کے اعلان سے گریز کیا گیا، ایک مردہ قسم کا اعلامیہ جاری ہوا جس کا اسرائیل اور امریکا نے کوئی اثر نہیں لیا۔ پنجاب یونیورسٹی کے سامنے ہونے والے غزہ مارچ میں عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ شرکا میں ہزاروں کی تعداد میں بچے، خواتین اور مختلف تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات بھی شامل تھے۔
لاہور نے فیصلہ سنا دیا، اہل لاہور غزہ کے ساتھ ہیں، قبلہ اول کے ساتھ ہیں
— Jamaat e Islami Pakistan (@JIPOfficial) November 19, 2023
اہل غزہ سے اظہار یکجہتی کے لیے اس وقت برکت مارکیٹ سے بیکھے وال چوک تک اور آس پاس کی سڑکوں پر لاکھوں لوگ موجود ہیں#GazaMarch pic.twitter.com/m2Oe3EJKGb
امیر جماعت فلسطینی رہنما ڈاکٹر نواف تکروری کے ہمراہ پنڈال پہنچے تو یہ غزہ سے اظہار یکجہتی کے نعروں سے گونج اٹھا۔ شرکا نے فلسطینی پرچم، بینرز اور کتبے اٹھا رکھے تھے۔ مارچ سے نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ و سیکرٹری جنرل امیر العظیم نے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت نے کہا کہ 44 دن سے غزہ پر بارود کی بارش ہو رہی ہے، یہ ظلم اور سفاکیت وہ ریاست کر رہی ہے جس کو سامراجی قوتوں نے 1948ء میں قائم کیا، اس سے قبل اسرائیل کا نام تک نہیں تھا، ناجائز ریاست کے قیام سے لے کر اب تک اہل فلسطین نے اسے تسلیم نہیں کیا، صہیونی ٹینکوں کا غلیلوں اور پتھروں سے مقابلہ کیا گیا جو ابابیلوں کی کنکریوں کے مانند تھے۔ طوفان الاقصیٰ کے بعد دنیا بدل گئی، واضح تفریق ہو گئی کہ کون ظالم کا ساتھ دے رہا ہے اور کس کی مظلوم کو حمایت حاصل ہے۔
انسانیت سے ہمدردی رکھنے والوں نے پوری دنیا میں مظاہرے کیے، فرانسیسی عوام نے حکومت کا بیانیہ تبدیل کرا دیا، کینیڈا کے وزیراعظم کا محاصرہ کیا گیا، واشنگٹن اور لندن میں اہل فلسطین کے حق میں لاکھوں کے اجتماع ہوئے، سب کو سلام پیش کرتا ہوں۔ امیر جماعت نے کہا کہ لاہور کے غزہ مارچ نے دشمنوں پر کپکپی طاری کر دی، یہ صوبائی دارالحکومت کی تاریخ کا فلسطین کے مسلمانوں کے حق میں تاریخ کا سب سے بڑا مظاہرہ ہے، اس جذبہ کو شکست نہیں دی جا سکتی، فلسطینی سرخرو ہوں گے۔
جماعت اسلامی پنجاب وسطی، جماعت اسلامی لاہور، زندہ دلان لاہور اور دیگر مقامات سے آنے والوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتا ہوں۔یہ اجتماع صہیونی ریاست اور اس کے سرپرستوں کے لیے پیغام ہے کہ غزہ میں اہل فلسطین کی نسل کشی بند کریں، امت بے چین اور اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ شرکا سے اپیل کرتا ہوں کہ فلسطینیوں کا پیغام گھر گھر پہنچائیں، آپ کا ہر قدم جہاد فی سبیل اللہ ہے، اہل فلسطین کو یقین دلائیں کہ وہ تنہا نہیں، پاکستان کا بچہ بچہ مسجد اقصیٰ کے تحفظ کے لیے خون کا آخری قطرہ بھی بہانے کو تیار ہے۔
فلسطینی رہنما ڈاکٹر نواف تکروری نے کہا کہ وہ قائد اعظم، علامہ اقبال اور سید مودودی کی سرزمین پر آئیں ہیں، اہل غزہ کی قربانیوں سے پوری دنیا سے بیدار ہو گئی، اسرائیل کو شدید ہزیمت اٹھانا پڑی۔ خوش خبری دیتا ہوں کہ فلسطینی مجاہدین کی عسکری قوت محفوظ ہے اور وہ شوق شہادت سے سرشار ہیں، ان شاء اللہ القدس آزاد ہو گا اور اس کے نتیجہ میں پوری امت سرفراز ہو گی۔ ہم بہت جلد مسجد اقصیٰ اور آزاد فلسطین میں اہل پاکستان کا استقبال کریں گے۔ اہل غزہ کی حمایت پر پاکستانی عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں، فلسطین کاز کے لیے جدوجہد کرنے پر امیر جماعت کا شکرگزار ہوں۔
امیر جماعت اسلامی نے 23 نومبر کو اسلام آباد میں بچوں کے ملین مارچ کا اعلان کیا اور جماعت اسلامی پنجاب کی جانب سے فلسطینیوں کے لیے اکیس کروڑ روپے کا چیک بھی دیا۔