انتظار کی سولی': پاکستان میں لاوارث لاشوں کی شناخت کے لیے بائیو میٹرکس کا استعمال

اہلِ خانہ کو لاش دیکھ کر صبر آ جاتا ہے،ایدھی فاؤنڈیشن کراچی کے مردہ خانے میں ہر سال ہزاروں لاشوں کی شناخت، لاوارث لاشوں کی تعداد میں کمی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایمبولینس جیسے ہی کراچی کے علاقے انچولی کے مردہ خانے کے دروازے پر پہنچی تو چار اٹینڈنٹ حرکت میں آگئے۔ انہوں نے تیزی سے گاڑی سے اسٹریچر نکالا اور اسے ایک کھڑکی کے اندر دھکیل دیا جہاں ایک اہلکار نے بائیو میٹرک اسکینر کے ذریعے سفید کفن میں لپٹے مردہ آدمی کی انگلیوں کے نشانات لے لیے۔

اس شخص کے نشانات کو نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) کے وسیع آرکائیو سے ملایا جائے گا جو پاکستان کے تمام شہریوں کا شناختی ریکارڈ رکھنے والا سرکاری ادارہ ہے۔

2016 میں شروع کیے گئے اس اقدام نے ایدھی فاؤنڈیشن کے زیرِ انتظام مردہ خانے میں ہر سال ہزاروں لاشوں کی شناخت کرنے میں مدد کی ہے۔ ایدھی فاؤنڈیشن ایک خیراتی ادارہ ہے جو پاکستان میں لاوارث لاشوں کی تدفین کے لیے سب سے بڑا نیٹ ورک چلاتا ہے۔

1986 میں قیام سے لے کر 2016 تک مردہ خانے کو 82,500 لاوارث لاشیں موصول ہوئی ہیں یا یوں کہیے کہ تین عشروں کے دوران اوسطاً 2,750 لاشیں ہر سال موصول ہوئی ہیں۔ نادرا کے نظام کے نفاذ کے بعد سے یہ تعداد کم ہو کر سالانہ 1,512 رہ گئی ہے۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے ساتھ کام کرنے والی سٹیزن پولیس لائزن کمیٹی کے ایک اہلکار ذوالفقار علی نے کہا، "جب لاشیں کراچی سے آتی ہیں تو ہم بائیو میٹرکس لیتے ہیں اور ان کی شناخت ہو جاتی ہے۔ ہم ان کی تفصیلات [انگوٹھے کا نشان] نادرا کو بھیجتے ہیں تاکہ ان کی حیثیت کا تعین ہو سکے اور دوسرے دن ہمیں سٹیٹس اور تمام تفصیلات مل جاتی ہیں۔"

"پھر لاش کی شناخت کی جاتی ہے اور ہم خاندان کو تمام معلومات فراہم کر دیتے ہیں۔"

علی نے مزید کہا کہ اب تقریباً 80 فیصد کیسز کی شناخت کا سراغ لگایا جا سکتا ہے۔

ٹیکنالوجی سے پہلے کراچی کے موچکو قبرستان میں مزید ہزاروں لاشیں بے نام دفن کر دی جاتی تھیں جہاں زیادہ تر کتبوں پر ناموں کے بجائے نمبر ہوتے تھے۔ اس ہفتے کے اوائل میں قبرستان میں مدفون ایک نامعلوم شخص کے سنگِ قبر کا سادہ شناختی نمبر 94,600 تھا۔

ایدھی فاؤنڈیشن کے مردہ خانے کے نگران نعمان مسعود نے عرب نیوز کو بتایا، "ہزاروں لاوارث لاشیں قبرستان میں مدفون ہیں۔ شاید ان کے گھر والے ابھی تک انتظار کی سولی پر مصلوب ہیں اس امید پر کہ وہ ابھی زندہ ہیں اور کہیں مل جائیں گے۔"

محمد ریاض بلوچ جو ایدھی ایمبولینس چلاتے ہیں، نے کہا کہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی جس کی آبادی زیادہ تر اندازوں کے مطابق تقریباً 18 ملین ہے، کے وسیع و عریض علاقے سے لاوارث لاشیں ملتی ہیں۔

انہوں نے کہا، "مرنے والوں میں سے کچھ کو گولی کے زخم آئے ہیں جبکہ دیگر منشیات کے عادی ہوتے ہیں جو نالیوں، کوڑے دان میں یا کسی پل کے نیچے پائے جاتے ہیں اس لیے ہم انہیں اٹھا لیتے ہیں۔" اور مزید کہا کہ متعلقہ تھانے میں اندراج کے بعد ایدھی نے لاشیں برآمد کیں۔

اس سوال پر کہ جب نادرا سسٹم کے ذریعے لاشوں کی شناخت نہ ہوسکے تب کیا ہوتا ہے، ایدھی کے مسعود نے کہا، مردہ خانے میں ایسے معاملات کے لیے "پرانے طریقوں" کا استعمال کیا جاتا ہے جہاں انگلیوں کے مسخ ہونے کی وجہ سے درست مماثلت ممکن نہ ہو یا اگر میت نابالغ ہو۔

اس طرح کے معاملات میں لاش کو تقریباً آٹھ دن کے بعد دفن کیا جاتا ہے لیکن پہلے اس کی تصویر لی جاتی ہے اور میت کے کفن نمبر کے تحت ایک فائل میں ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔

ایدھی ان تصاویر کو فائل میں رکھتا ہے تاکہ جب رشتہ دار ان کی تلاش میں آئیں تو پتا چل سکے۔

مسعود نے کہا، "جب لوگ اپنے عزیزوں کی تلاش میں ہمارے پاس آتے ہیں اور ان کی لاشیں مل جاتی ہیں تو ان کی تکالیف ختم ہو جاتی ہیں اور خواہ ان کے عزیز مر کر ہی ملیں، انہیں کسی حد تک صبر آ جاتا ہے۔"

مقبول خبریں اہم خبریں