کراچی: بھٹے میں پکی ہوئی خاص الخاص مچھلی کھانے کے شوقین افراد کے لیے باعث کشش

فیروزی فش اینڈ فوڈز کی بھٹے میں پکی ہوئی مچھلی کراچی کے ریستورانوں میں نایاب ہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

سردیوں کا موسم شروع ہوتے ہی جنوبی پاکستان کے بندرگاہی شہر کراچی میں کھانے کے شوقین افراد گرمائش حاصل کرنے کے لیے مچھلی اور دیگر سمندری غذائیں فروخت کرنے والے ریستورانوں پر جمع ہو جاتے ہیں۔ صرف اس موسمِ سرما میں ایک ریستوران کے مالک اکمل فیروزی نے کراچی والوں کو بھٹے میں پکی ہوئی مچھلی سے متعارف کروایا جس نے شہر میں پکوان کے وسیع منظرنامے میں ایک نمایاں مقام کا دعویٰ کیا ہے۔

کراچی ایئرپورٹ کے قریب واقع 'فیروزی فش اینڈ فوڈ' مچھلیوں کی مختلف اقسام اور دیگر سمندری غذاؤں کے بارے میں ہے۔ گذشتہ سال اگست میں قائم کردہ اس ریستوران نے کھانے کے شوقینوں کو منفرد لذت سے روشناس کرتے ہوئے ان کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔

ہفتے کے آخر میں گاہکوں کی ایک بڑی تعداد کی ضرورت کو پورا کرتے ہوئے 48 سالہ فیروزی نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم نے اسے بھٹے میں پکایا ہے۔ اس کا ذائقہ بہت اچھا اور منفرد ہے۔ یہ رسیلی ہے، دھواں دار ہے۔"

"فی الحال ہمارے ساتھ جہاں بھی لوگ بیٹھے ہوں گے، ہر میز پر بھٹہ [پر پکی ہوئی] مچھلی ہو گی۔"

فیروزی نے بتایا کہ اپنے بچپن سے ہی انہوں نے ہر جگہ صرف تلی ہوئی یا انگیٹھی پر تیارکردہ مچھلی ہی فروخت ہوتے دیکھی ہے جس کی وجہ سے وہ اپنی ہی کچھ اختراعات کے ساتھ تجربہ کرنے لگے۔

جبکہ انہوں نے 'ڈرائی فروٹ فش ہانڈی'، 'توا لیمن بٹر فش' اور پاکستان کے خوبصورت شمال مغربی سوات شہر کی ٹراؤٹ مچھلی متعارف کروائی لیکن یہ بس ایک حسنِ اتفاق یا خوش قسمتی تھی جس نے 48 سالہ ریستوراں مالک کو ایک پاکستانی تارکِ وطن نائیک شاہ تک پہنچا دیا جنہوں نے سعودی عرب میں 10 سال تک بھٹے بنائے۔

فیروزی نے کہا، "ہم نے گوگل پر عرب چینلز، یوٹیوب وغیرہ پر بہت سی چیزیں دیکھی ہیں۔ وہ گوشت پکاتے ہیں، پورا بکرا، ایک پورا اونٹ بھٹے میں تیار کرتے ہیں۔ ہم نے یہ چینلز پر دیکھا ہے۔" اور مزید کہا کہ شاہ نے اپنے ریسٹورنٹ کے لیے بھی ایک بھٹہ ڈیزائن کیا تھا۔

24 دسمبر 2023 کو کراچی، پاکستان میں 'فیروزی فش اینڈ فوڈ' میں پیش کی جانے والی ایک تیارشدہ مچھلی (اے این)
24 دسمبر 2023 کو کراچی، پاکستان میں 'فیروزی فش اینڈ فوڈ' میں پیش کی جانے والی ایک تیارشدہ مچھلی (اے این)

مچھلی کو کاٹ کر صاف کرنے کے بعد ریستوراں کے باورچی فراست علی نے ذمہ داری سنبھال لی اور عین درست درجۂ حرارت پر پکوائی اور بیکنگ کی غیر معمولی مہارت کا مظاہرہ کیا۔

علی نے عرب نیوز کو بتایا، "ہم اسے مسالوں سے مزین کرتے ہیں اور اس کے ساتھ ہم سبزیاں بھی پیش کرتے ہیں مثلاً ٹماٹراور ہری مرچ۔ اور سرخ شملہ مرچ بھی شامل کی جاتی ہے۔ اس کے بعد ہم مصالحہ چھڑک کر اسے پکاتے ہیں۔"

علی کہتے ہیں کہ وہ مچھلیوں کی مختلف اقسام مثلاً ریڈ سنیپر، بریم، کروکر، ہندوستانی سالمن اور ٹراؤٹ 25 منٹ تک پکاتے ہیں اور خوش کن صارفین کو گرما گرم پیش کرتے ہیں۔

فیروزی نے کہا کہ یہ دراصل بھٹے میں پکنے اور مقامی مصالحہ جات کے ذائقے کا ایک مجموعہ تھا جس نے بندرگاہی شہر میں کھانے کے شوقین افراد کے لیے ان کی مچھلی کو ایک دعوت بنا دیا تھا۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "مصالحے یہاں (پاکستان) کے ہیں۔ اگر سرخ مرچ یا مصالحہ نہ ہو تو ذائقے میں لطف نہیں آتا۔"

محمد سعود نامی ایک گاہک نے بتایا کہ انہوں نے بھٹے میں بنی مچھلی فیس بک کے ذریعے دریافت کی۔

سعود نے کہا، "ہم نے اسے آزمایا اور ذائقہ بہت زبردست ہے لیکن یہ تھوڑا مہنگا ہے۔ میں کہوں گا کہ ذائقہ بہترین اور بہت مزیدار ہے اور یہ ایک نیا ذائقہ ہے۔"

ایک ریڈیو پریزینٹر فیروزہ جنہوں نے صرف اپنا پہلا نام بتایا، بھٹے میں پکی ہوئی مچھلی آزمانے کے بعد بہت خوش ہوئیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ پیسہ وصول کھانا تھا۔

انہوں نے کہا، "بھٹے کی مچھلی اتنی لذیذ تھی کہ مجھے نہیں لگتا کہ میں نے اس سے بہتر تیارکردہ مچھلی کہیں اور کھائی ہو گی۔" اور مزید کہا کہ ساتھ پیش کردہ چٹنیاں بھی اتنی ہی شاندار اور لذیذ تھیں۔

"سردیوں میں اسے کھانا بہت لطف انگیز ہے۔"

فیروزی کہتے ہیں کہ وہ اپنے تجربے کی کامیابی پر فخر محسوس کرتے ہیں۔

انہوں نے عرب نیوز کو بتایا، "الحمدللہ ہمارا تجربہ کامیاب رہا ہے۔ لوگ اسے پسند کر رہے اور کھا رہے ہیں اور ہم بھی اسے بہت پسند کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں